زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 415
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 415 جلد اول کریں تو ممکن ہے اس مسئلہ میں بھی پہلے فقہاء میں اختلاف نکل آئے تو اختلاف رائے نقص کے یہ معنی نہیں کہ دوسرے کی بات کو غلط قرار دیا جائے۔اختلاف رائے طبعی بات ہے اور اسے نقص قرار دینا اور غلطی سمجھنا بہت بڑان ہے۔مگر میں 90 فیصدی کارکنوں میں یہ نقص دیکھتا ہوں۔میں جب کسی مبلغ کو باہر بھیجتا ہوں تو اسے یہی نصیحت کرتا ہوں کہ پہلوں سے تمہیں اختلاف رائے ہوگا پہلے مبلغ کی بعض باتیں تمہیں ناپسند ہوں گی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس کی شکایتیں شروع کر دو۔بلکہ تمہیں کوئی کام اسی طرح کرنا چاہئے جس طرح پہلا مبلغ کرتا رہا ہو۔کیونکہ وہ تجربہ کار تھا تم غلا اور تم نئے نئے ہو گے اور جس کام کا تجربہ نہ ہو اس میں غلطی لگ جانا بڑی بات نہیں۔ابھی کل میں چودھری ظفر اللہ خان صاحب سے ذکر کر رہا تھا کہ پونڈ کی قیمت کم مقرر کرنے کے متعلق جو سوال تھا اس میں مجھے غلطی لگی تھی۔میرا یہی خیال تھا کہ پونڈستا کر دیا جائے تو اہل ہند کو فائدہ رہے گا۔مگر اب معلوم ہوا کہ اس سے ملک کو سخت نقصان ہو گا۔اس غلطی کی وجہ یہ تھی کہ میں مالیات کا ماہر نہ تھا اور مالیات کے ماہروں سے گفتگو کی تو معلوم ہوا کہ پونڈ کی قیمت جب کم ہو جائے گی اور اس کی بجائے کم روپے ادا کرنے پڑیں گے تو اہل ہند انگلستان سے مال خریدیں گے۔لیکن انگلستان والوں کو چونکہ ہندوستان سے پونڈ کے کم روپے وصول ہوں گے اس لئے وہ ہندوستان سے کوئی چیز نہ خریدیں گے بلکہ دوسرے ممالک سے خریدیں گے۔تو تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے غلطی ہو جاتی ہے۔اس لئے نئے مبلغ کو میں یہی کہتا ہوں کہ پہلے جس طرح پہلا مبلغ کام کر رہا تھا اسی طرح تم بھی کرنا۔پھر اگر تجربہ کے بعد خرابی معلوم ہو تو یہ نہ کہو کہ پہلے نے غلطی کی بلکہ یوں کہہ سکتے ہو کہ پہلے اس طرح کام ہو رہا تھا میرے نزدیک اس کی بجائے اگر اس طرح ہو تو زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔اس طرح اس میں تغییر کرنے کی اجازت حاصل کر سکتے ہو۔اس کی کیا ضرورت ہے کہ پہلے کی غلطیاں اور نقائص گنانے اور اس کے خلاف شکایت کرنے لگ جاؤ۔پہلا شخص جس طرح کام کرتا تھا صحیح سمجھ کر ہی کرتا تھا۔وہ دین کی خدمت کے لئے گیا تھا اسے کیا