زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 412
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 412 جلد اول اس کے متعلق تو پھر بھی خیال ہوتا ہے کہ اگر ہمارے زمانے میں اس نے کام نہیں دیا تو ہماری نسلوں کے زمانہ میں دے گی۔مگر ایسا انسان ہمیشہ کے لئے بے کار ہو گیا کیونکہ جب وہ مر گیا تو پھر اس کے لئے کام کا بننے کے لئے کوئی موقع نہ رہا۔اسی طرح اگر کوئی انسانیت کو کام میں نہ لایا بلکہ اسے ضائع کر دیا تو گویا وہ بیچ جو دوسروں سے اشتراک اور اتحاد کے نتیجہ میں حاصل ہوتا تھا اسے ضائع کر دیا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بقاء کے لئے دو چیزوں کا ملنا ضروری ہوتا ہے۔دیکھو مرد وعورت ملتے ہیں تو بچہ پیدا ہوتا ہے۔لیکن اگر مرد مرد والی قابلیت نہیں رکھتا اور عورت عورت والی قابلیت نہیں رکھتی تو کوئی بچہ پیدا نہ ہوگا۔یا اگر ان میں سے ایک اپنی قابلیت مار دے تو بچہ نہیں پیدا ہوگا۔دونوں میں ذاتی قابلیت ہو اور پھر وہ ملیں تو بچہ پیدا ہوگا۔اگر مرد نامرد ہو تو اس سے کوئی بچہ نہ پیدا ہو گا۔اسی طرح اگر عورت بانجھ ہو تو اس سے بھی بچہ نہیں پیدا ہو گا۔اور اگر دونوں بچہ پیدا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں لیکن ملتے نہیں تو بھی بچہ نہ پیدا ہو گا۔اپنی اپنی جگہ ان میں قابلیت ہو اور وہ ملیں تب بچہ پیدا ہو گا۔اسی طرح اگر ایک افسر میں ماتحت سے مل کر کام کرنے کی قابلیت نہیں اور ماتحت میں انانیت نہیں تو ان کے تعاون سے کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔یا اگر دونوں قابلیت تو رکھتے ہیں لیکن ملتے نہیں تو بھی کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ دونوں میں انانیت ہو اور دونوں انسانیت میں آ کر ا کٹھے ہو جائیں تب نتیجہ نکلے گا۔تمام سلسلوں میں یہی بات چلتی ہے۔یہ نیچر اور قانون قدرت ہے اور ہمارا سلسلہ اس قانون سے علیحدہ نہیں ہوسکتا۔پس ہر انسان میں انانیت ہونی چاہئے یعنی اپنے طور پر غور کرے کہ جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے اس میں بہتری کی کون سی صورت ہو سکتی ہے۔اس کے متعلق وہ اپنی سکیم بنائے اور افسر کے سامنے پیش کر دے۔افسر اپنے طور پر اس پر غور کرے۔پھر اسے اپنی رائے سے ملائے اور سموئے۔یعنی جو باتیں اس سکیم میں مفید ہوں وہ قبول کرے اور جو ایسی ہوں کہ گو اس کے نزدیک اچھی نہ ہوں لیکن ان سے کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو تو کام کرنے والے کی بشاشت قائم رکھنے کے لئے ان سے بھی اتفاق