زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 411
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 411 جلد اول دے دے، اپنا کوئی ارادہ ، کوئی خواہش نہ رکھے تو یہ بھی بہت برے نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے کیونکہ کوئی ایک انسان دنیا کے تمام نقائص اور خرابیوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔اسی طرح دنیا کی ساری خوبیوں کا بھی علم نہیں رکھ سکتا۔اگر ایک شخص اس کے پیچھے اس طرح چل پڑتا ہے کہ جدھر وہ لے جاتا ہے ادھر جاتا ہے، جدھر سے روکتا ہے رک جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ وہی خرابیاں اسے معلوم ہوں گی جو دوسرا اسے بتائے گا یا وہی خوبیاں نظر آئیں گی جو اسے دوسرا دکھائے گا۔خود اس میں خدا تعالیٰ نے خوبیوں کے جاننے اور خرابیوں کے معلوم کرنے کی جو قابلیت رکھی ہے اس کا اظہار نہ ہو گا۔اس وجہ سے انانیت چاہتی ہے کہ خدا اور بندہ کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو بلکہ براہ راست خدا سے اس کا تعلق ہو۔لیکن اس کے ساتھ ہی انسانیت بھی ہے۔اس میں شفقت علی خلق اللہ پائی جائے۔اس حالت میں وہ نیچے کی طرف دیکھے کہ خدا تعالیٰ نے اور بھی انسان پیدا کئے ہیں جن سے مجھے وابستہ کیا ہے۔ان میں کچھ ایسے ہوں گے جو اس سے زیادہ تیز چلنے والے ہوں گے۔ان کے ساتھ چلنے کے لئے اسے اپنی رفتار تیز کرنی پڑے گی۔اور کچھ ایسے ہوں گے جو اسے اپنے سے ست نظر آئیں گے انہیں اپنے ساتھ لینے کے لئے قدم کو روکنا ہو گا۔کیونکہ اگر وہ تیز نہ چلے گا تو تیز چلنے والے اس سے آگے نکل جائیں گے۔اور اگر قدم نہ روکے گا تو ست چلنے والے پیچھے رہ جائیں گے۔اس لئے وہ کچھ قدم تیز کر کے اور کچھ روک کر دوسروں کے ساتھ چلنے کی کوشش کرے۔پس ایک طرف تو اس میں ایسی انانیت ہو کہ وہ اپنے اور خدا کے درمیان کوئی واسطہ نہ سمجھے اور دوسری طرف ایسی انسانیت ہو کہ اپنے آپ کو سب انسانوں کے ساتھ وابستہ رکھنا ضروری سمجھے۔جس میں دونوں صفتیں ہوں وہی کامیاب ہو سکتا ہے۔لیکن جس میں ان میں سے کوئی ایک نہ ہویا دونوں نہ ہوں وہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی مصیبت ہوتا ہے۔اگر اس میں انانیت نہیں تو اس نے اس جو ہر کو مٹادیا جو اللہ تعالیٰ نے اس میں رکھا تھا اور وہ بے کار ہو گیا جس طرح بنجر زمین بے کار ہوتی ہے۔بلکہ بنجر زمین بھی اس سے اچھی ہوتی ہے۔