زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 400
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 400 جلد اول کوئی عہدہ طلب کرے اسے مت دو 3 تو یہ سمجھنا کہ خدمات کا اعتراف نہیں ہوا خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے اور پھر اپنے نفس پر۔جو خدا تعالیٰ کے لئے خدمت کرنے کے لئے نکلا اسے اپنی خدمات کا اعتراف اللہ سے طلب کرنا چاہئے۔اور ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنا اعتراف بندوں کی زبان سے ہی کرائے بلکہ وہ اپنا اعتراف اپنی وحی ، اپنی نصرت اور اپنی تائید سے ظاہر کرنے لگتا ہے۔انسان کو اپنے نفس پر غور کرنا چاہئے کہ اللہ تعالی اس سے کیا سلوک کر رہا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اپنی محبت ، اپنے کلام اور اپنی تائید سے اسے مشرف کرتا ہے تو اس سے بڑھ کر شرم کی کیا بات ہوگی کہ وہ سمجھے یہ سب کچھ تو بیچ ہے مجھے بندوں کی تعریف چاہئے۔اگر کسی کی تعریف خدا تعالیٰ کے ہاں نہیں ہوتی تو بندوں کی تعریف اسے کیا فائدہ دے سکتی ہے۔بندے غلط اور بے وجہ بھی تعریف کرنے لگتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کو دھوکا نہیں لگ سکتا۔خدا تعالیٰ وہی تعریف کرتا ہے جو اسے نظر آتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کسی سے خاص سلوک نہیں کرتا ، اس پر اپنی نصرت نازل نہیں کرتا ، اس کے قلب میں اطمینان اور سکینت پیدا نہیں کرتا تو وہ سمجھے خدا کے حضور اس کی خدمات مقبول نہیں ہوئیں۔جب وہاں مقبول نہیں ہوئیں تو دنیا کی مقبولیتیں تو وہاں سے ہی نازل ہوا کرتی ہیں وہ کس طرح نازل ہوں۔ہم نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد بعض لوگوں کی کوشش ہوتی تھی کہ دوسروں کے رستہ میں روکیں ڈالیں اور انہیں کوئی کام نہ کرنے دیں اور اگر کچھ کریں تو اس پر اعتراض کئے جائیں۔اُس وقت جب میرے سپرد کوئی کام کرنے کا سوال ہوتا تو وہ کہتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کی ہتک۔کہ اس سے کوئی کام کرایا جائے اور ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن دوسرے موقع پر و ہی حضرت خلیفہ المسیح الاول کے پاس جا کر کہتے یہ کوئی کام نہیں کرتے۔ایسی حالت تھی جس میں سے ہمیں گزرنا پڑا۔مگر اُس زمانہ میں میں نے دیکھا کوئی ہفتہ خالی نہ جاتا کہ خدا تعالیٰ غیب کی خبریں نہ بتاتا اور بشارتیں نازل نہ کرتا۔میں اپنے دوستوں سے بیان کرتا اور