زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 401

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 401 جلد اول پوری ہوتیں۔تو خدا تعالیٰ پر جو نظر رکھتا ہے خدا اس کی تائید اور نصرت کرتا ہے۔کبھی علوم کے ذریعہ۔کبھی بشارتوں کے ذریعہ۔کبھی فضلوں کے ذریعہ۔میں نے کبھی باقاعدہ علم نہ پڑھا لیکن جب میں حج کو جانے لگا تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول میرا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئے اور علیحدگی میں فرمایا دیکھو میاں زندگی کا اعتبار نہیں پتہ نہیں تمہارے واپس آنے تک میں زندہ رہوں یا نہ رہوں اس لئے تمہیں بتاتا ہوں کہ تم میرے شاگرد ہو۔مگر میں بھی تمہارا شاگرد ہوں۔تمہارے خطبوں اور تقریروں سے میں نے قرآن کریم کی کئی آیتوں کے معنے سیکھے اور وہ مجھے بہت پسند آئے۔غور کرو ایک طالب علم کے لئے اس سے بڑھ کر کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ اس کے استاد نے بھی اس کے علم سے فائدہ اٹھایا۔یہ ایک بہترین انعام ہے جو شاگرد کو استاد کی طرف سے حاصل ہوسکتا ہے۔تو جب انسان خدا کے لئے خدمت کرتا ہے اور اس کی خدمت کی بنیا د روحانیت پر ہوتی ہے تو وہ ناکام نہیں رہتا۔لیکن جب کوئی انسانوں پر نظر رکھتا ہے تو وہ کامیابی سے محروم رہتا ہے۔انسان در اصل خدا کی بانسری ہوتا ہے۔خدا جسے چاہتا ہے بجاتا ہے۔لیکن جس انسان میں روحانیت نہ ہو وہ ٹوٹی ہوئی بانسری کے مانند ہوتا ہے۔تو خدمت دین کی خواہش روحانیت پر ہونی چاہئے کیونکہ اس طرح کبھی انسان مایوس نہیں ہوتا۔دنیا میں سب سے زیادہ وقتیں انہیں پیش آتی ہیں جنہیں سب سے زیادہ لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔میں اپنا تجربہ بتاتا ہوں ایک شخص آتا ہے اور شکایت کرتا ہے فلاں نے مجھ سے یہ سلوک کیا ہے۔ہم اسے تنبیہ کرتے ہیں مگر اس سے شکایت کرنے والے کی تسلی نہیں ہوتی۔وہ سمجھتا ہے پوری سزا نہیں دی گئی۔اور جسے سزا دی جاتی ہے وہ کہتا ہے مجھ پر ظلم کیا گیا ناحق سزا دے دی گئی۔معمولی سی بات پر اتنی سختی کی گئی۔گویا دونوں شکوہ کرتے ہیں۔تو جس شخص کے جتنے تعلقات وسیع ہوتے ہیں اتنا ہی وہ زیادہ لوگوں کے نزدیک زیر الزام ہوتا ہے۔اس صورت میں اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید نہ ہو تو دیانت دار آدمی ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ایک انسان جو پوری دیانت داری سے کام کرے اور اس کا ملجا وما وای