زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 399
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 399 جلد اول ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ملک اور قوم کی عزت کی حفاظت کے کام کو بہت اہم سمجھا جاتا اور اس کی اہمیت لوگوں کے دلوں میں جاگزیں کی جاتی ہے۔میں طالب علموں سے کہتا ہوں جو شخص کسی بات کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے جب وہ یاد رہتی ہے تو جسے یادرکھنے کی کوشش کی جائے وہ کیوں نہ یادر ہے گی۔پس مبلغین کے آنے اور جانے کے موقع پر خدمت دین کی جو روان میں پیدا ہوتی ہے اسے قائم رکھنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ خدمت دین کسی انسان کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے ہوتی ہے۔بہت لوگ ہیں جو کوئی خدمت کرتے ہیں تو بعد میں امید رکھتے ہیں کہ لوگوں کی طرف سے ان کی خدمت کا اعتراف ہوگا۔اور اگر جس طرح کا اعتراف وہ چاہتے ہوں ویسا نہ ہو تو شکوے کرتے ہیں۔اگر وہ خیال کریں کہ لوگ دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ جس قدر ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا اتنا ہی ہونا چاہئے اس سے زیادہ نہیں تو انہیں ٹھوکر نہ لگے۔وہ سمجھ لیں جس نے جس رنگ میں اعتراف کیا یا بالکل نہ کیا اس کی سمجھ میں ایسا ہی آیا۔اگر کوئی واقعہ میں سمجھتا ہو کہ فلاں نے کوئی دین کی خدمت نہیں کی یا جو کچھ اس نے کیا اس میں نقص رہ گیا اور اس کی تکمیل کی ضرورت ہے تو کیا اس سے یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ جھوٹے طور پر اس کی خدمت کا اعتراف کرے۔یہ اپنے بھائیوں کے متعلق بدظنی ہے۔اسے سمجھنا چاہئے اگر کوئی خدمات کا اعتراف نہیں کرتا تو دیانت داری سے نہیں کرتا۔لیکن جب وہ سمجھتا ہے کہ ایسا کرنا شرارت ہے یا شرارت کا نتیجہ ہے تو ٹھو کر کھاتا ہے۔میں کہتا ہوں لوگوں سے دینی خدمات کے اعتراف کرانے کا سوال پیدا ہونا اللہ تعالیٰ پر اور خود اپنے نفس پر بدظنی ہے۔خدا تعالیٰ پر تو اس لئے کہ جو خدا کے لئے خدمت کرتا ہے خدا اس کی خدمت کا اعتراف کرتا ہے۔اور خواہ ساری دنیا اسے مٹانا چاہے وہ مٹ نہیں سکتا۔لوگ اسے پیچھے رکھنا چاہیں تو خدا تعالیٰ خود ا سے آگے لاتا ہے۔لوگ اسے گمنامی کے گڑھے میں پھینکنا چاہیں تو خدا تعالیٰ شہرت کے آسمان پر پہنچاتا ہے۔لیکن جو خدا تعالیٰ پر بدظنی کر کے اپنے آپ کو خود بڑھانا چاہتا ہے وہ کبھی نہیں بڑھا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص خود