زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 394
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 394 جلد اول دین کی خدمت خدا کے لئے کرو نہ کہ بندوں کے لئے حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ مغربی افریقہ کو ان کی بیرون ملک سے آمد پر تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طلباء کی طرف سے جو دعوت چائے دی گئی اس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی بھی شامل ہوئے۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو خطاب فرمایا وہ حسب ذیل ہے:۔انسانی دماغ کی بناوٹ اس قسم کی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہزاروں نہیں لاکھوں قسم کی نہریں چلائی ہوئی ہیں۔وہ ایک جنت ہے اور اس آنے والی جنت کا نقشہ ہے جس کا مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ 1 جیسے نہریں ایک خاص رنگ میں چلتی ہیں پانی برستا تو سب جگہ ہے مگر جہاں ڈھلوان دیکھتا ہے ادھر جمع ہو کر چلا جاتا ہے اور اس طرح نالا پانی سے لبریز ہو کر بہنا شروع ہو جاتا ہے۔بالکل اسی طرح انسانی خیالات کی رو کا حال ہوتا ہے۔ہر قسم کی قابلیت انسان کے دماغ میں ہوتی ہے۔ہر قسم کے مضامین دماغ میں موجود ہوتے ہیں۔ہر قسم کے جذبات کا بیج اس میں رکھا ہوتا ہے۔لیکن جس طرح گویا کسی نظم کے متعلق خاص تان اٹھاتا ہے اور نظم کے الفاظ اسی تان کے مطابق چلتے ہیں اسی طرح ماحول کے اثرات کے ماتحت انسانی دماغ اپنے اندر ایک اثر قبول کرتا ہے۔اُس وقت اس کے لئے ایک ڈھلوان پیدا ہو جاتی ہے اور خیالات ایک رو میں اُدھر بہنے لگتے ہیں۔یہاں تک کہ اور بارش ہو جاتی ہے اور وہ اپنے لئے اور ڈھلوان تجویز کر لیتی ہے۔پھر خیالات اس طرف بہنے لگ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کوئی انسان خواہ وہ