زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 395

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 395 جلد اول کتنا بڑا عالم ہو کبھی کسی ایک مجلس میں بیٹھ کر اپنے سارے علوم اور سارے خیالات ظاہر نہیں کر سکتا۔اس کے دماغ میں سارا علم موجود ہوتا ہے مگر اس کے لئے اس علم کا پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔جیسے ایک نہر میں بہتا ہوا انسان دوسری نہر میں بہتی ہوئی چیز کو پکڑ نہیں سکتا یہی حال انسان کا ہوتا ہے۔خیالات کی ایک نہر میں بہتے ہوئے وہ دوسرے خیالات تک نہیں پہنچ سکتا۔یہ بات سمجھنے کے لئے قرآن کریم کو ہی لے لو۔خدا تعالیٰ نے ہم میں سے بہتوں کو اس کا علم دیا ہے مگر یہ کہ کوئی شخص قرآن کے سارے مطالب کسی ایک درس میں بیان کر دے یہ ناممکن ہے۔ہم خواہ کتنا زور لگائیں پھر بھی ماحول سے متاثر ہو کر ایک ہی نہر میں بہنے لگیں گے اور وہی معارف بیان کر سکیں گے جو اس ماحول سے تعلق رکھیں گے۔ہم بے شک موتی اور مرجان نکالیں گے مگر اسی نہر میں سے جس میں بہہ رہے ہوں گے دوسری نہروں تک ہماری رسائی نہ ہو گی۔گو دوسرے معارف و حقائق بھی دماغ میں موجود ہوں گے یہی وجہ ہے کہ ایک انسان ، ایک وقت ایک مضمون بیان کرتا ہے اور وہی دوسرے وقت دوسرا اور تیسرے وقت ان دونوں سے الگ اور بیان کرتا ہے۔اس لئے نہیں کہ اس نے یہ ارادہ کیا ہوتا ہے کہ فلاں وقت فلاں مضمون بیان کروں گا اور فلاں وقت فلاں۔بلکہ جس وقت وہ بیان کرتا ہے اس کے مطابق جو رو اس کے دماغ میں چلتی ہے اس کے لحاظ سے بیان کرتا ہے۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک مضمون جس وقت بیان کر رہا ہوتا ہے اس وقت قطعاً اسے یاد نہیں ہوتا کہ اس نے ان آیات کے کسی وقت اور معنی بھی بیان کئے تھے۔یہی حال مضمون نویس کا ہوتا ہے۔وہ بھی ماحول کے اثرات سے متاثر ہو کر مضمون لکھتا ہے اور جدھر اس وقت اس کے دماغ کی رو چلتی ہے ادھر ہی وہ بہتا ہے۔یہ مادہ جو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے بطور رحمت ہے۔اول اس لئے کہ اگر انسان کے سامنے اس کے سارے خیالات ، اس کے سارے علوم، اس کی ساری کیفیات ، اس کے سارے جذبات ایک ہی وقت میں آتے تو وہ پاگل ہو جاتا اور اس کی وہی مثال ہوتی