زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 391
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 391 جلد اول معلموں کی ضرورت ہوتی ہے مگر بحصہ رسدی اس ملک کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ابھی اتنی گنجائش نہیں کہ باہر زیادہ مبلغین بھیجے جاسکیں۔سوائے اس کے کہ کسی ملک کے متعلق یہ امید ہو کہ وہ بہت جلد اپنا بوجھ اٹھانے کی قابلیت پیدا کر لے گا۔اور اس وقت ایسے ممالک صرف جاوا اور سماٹرا ہی نظر آتے ہیں اس لئے سردست میں نے سماٹرا کے دوستوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ فی الحال ایک اور مبلغ انہیں دیا جائے گا، تا ایک مشن جاوا میں بھی قائم ہو سکے۔اور ایک تیسرے کے لئے بھی جلد کوشش کی جائے گی۔لیکن بقیہ ممالک میں ذاتی قابلیت پیدا ہونے یا پھر ہمارے اندر طاقت آجانے کے بعد ہی مشن کا کام بڑھایا جا سکتا ہے۔ہاں ایک اور صورت جو مفید ہو سکتی ہے یہ ہے کہ وہاں کی جماعتیں کچھ نوجوان جو نہ تو اتنے بڑے ہوں کہ کسی کا اثر قبول ہی نہ کر سکیں اور نہ اتنے چھوٹے ہوں کہ یہاں آ کر اداس ہو جائیں بلکہ درمیانی عمر یعنی 16 ، 17 سال کے ہوں چندہ کر کے ان کے لئے کرایہ فراہم کر دیں۔جس میں ہو سکتا ہے کہ اگر کمی رہے تو کچھ امداد ہم بھی دے دیں یہاں بھیجیں۔وہ یہاں آ کر تعلیم حاصل کریں۔یہاں کی زبان سیکھیں۔تحریرات کا مطالعہ کریں۔اخبارات خود پڑھ سکیں۔پھر اس کے بعد اپنے ملک میں جا کر کام کریں۔ایسے لوگ بھی اگر چہ ہمارے مبلغین کے قائم مقام تو نہیں ہو سکتے لیکن ان کا باز وضرور بن سکتے ہیں اور تبلیغ میں مدد دے سکتے ہیں۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں لوگ اپنوں کے منہ سے سن کر مانتے ہیں اور بعض غیر ممالک کے لوگوں سے سن کر مانتے ہیں لیکن یہ بات انسانی فطرت میں داخل ہے کہ اس پر اپنے کی بات زیادہ اثر کرتی ہے۔جبھی تو قرآن کریم نے بار بار رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے اندر سے تمہارے لئے رسول مبعوث کیا۔باہر کا آدمی ممکن ہے کسی قوم کے لئے مفید ہو سکے مگر اتنا نہیں جتنا اپنا ہوسکتا ہے۔بعض لوگ نادانی سے اجرائے نبوت پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ وہ سمجھتے نہیں کہ جب قرآن کریم نے تسلیم کیا ہے کہ انسان اپنے اندر والے کی بات زیادہ مانتا ہے اور ادھر