زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 392
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 392 جلد اول اسلام ساری دنیا کے لئے آیا ہے تو ضروری ہونا چاہئے کہ مختلف حصص عالم میں ایسے کل پیدا ہوں تا سب قوموں میں ان کا اپنا داعی ہو سکے۔جب شریعت مکمل ہو چکی ہے تو صلى الله ظلی نبوت کا سلسلہ ضرور ہونا چاہئے تا مختلف قوموں میں رسول کریم ﷺ کے نائب پیدا ہوں کیونکہ لوگوں کو تسلی ہو کہ خدا کی باتیں براہ راست اپنی زبان میں ہم نے سن لی ہیں۔اس پر کہا جا سکتا ہے کہ صرف ہندوستان میں ہی ظلی نبی کیوں آیا ؟ لیکن ابھی کیا معلوم ہے کہ دنیا میں کتنے تغیرات ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام کے لحاظ سے کہ روحانی فیوض کے دروازے بند نہیں ہوئے کیا تعجب ہے کہ مختلف اوقات اور مختلف اقوام میں ایسے مامورین پیدا ہوں جن کا پیدا ہونا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے کئی اور سامان پیدا کر کے بھی مختلف ممالک کو مشرف کر دیا ہے۔مِنْ أَنفُسِكُمْ کے صرف یہی معنے نہیں ہوتے کہ اس قوم سے ہی وہ ضرور ہو بلکہ حاکم یا ماتحت کے متعلق بھی یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔جیسے فرعون کی طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث کئے گئے حالانکہ وہ اس کے ماتحت قوم سے تھے۔اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگریزوں کے لئے بھی ہیں اور ہندوستان کے لئے بھی ، پھر ترکی الاصل ہونے کے لحاظ سے ایرانیوں کے لئے اور ترکستان کے لئے بھی ہیں اور افغانستان کے لئے بھی۔کیونکہ وہ دراصل ہندوستان کا ہی حصہ ہے۔ان ممالک میں سے صرف ہندوستان کی آبادی 33 کروڑ ہے۔اور باقی ممالک کو شامل کر لیا جائے تو قریباً نصف دنیا ہو جاتی ہے۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ نصف دنیا کو مشرف کر دیا گیا۔اس طرح دنیا کا تھوڑا حصہ باقی رہ جاتا ہے۔اور ممکن ہے بعض آنے والے مامورین کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو پیشگوئیاں ہیں ان کے مطابق باقی دنیا میں مامور پیدا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ کے کلام سے مستنبط ہوتا ہے کہ کسی قوم میں اس کے اپنے آدمی کا خاص اثر ہوتا ہے۔اس لئے اگر مختلف ممالک کے طالب علم یہاں آ کر تعلیم