زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 385
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 385 جلد اول زور صرف کرتے ہیں باوجود اس کے کہ دوسرے انسانوں کی نسبت اعلیٰ درجہ کے لستان اور ادیب سمجھے جاتے ہیں جس قدر ہماری زبان کے الفاظ کے ذخائر ہیں وہ ان کے قبضہ میں ہوتے ہیں اور جس طرح ایک ماہر فنون جنگ آلات کو مناسب موقع پر استعمال کرتا ہے اسی طرح ایک شاعر اور غزل گو بھی الفاظ کے ذریعہ اظہار مطالب کرتا ہے۔مگر تمام ترانوں اور تمام غزل گویوں کے بعد ہر ایک شاعر یہی کہتا ہوا گزر جاتا ہے کہ کوئل کی کوکو، قمری کی صدا اور بلبل کی آواز کا مفہوم ادا نہیں ہو سکا۔اس سے ظاہر ہے کہ انسانی نفس کی گہرائیوں میں کسی تحریک سے جو خیالات اٹھتے ہیں ان کے اظہار کے لئے مروجہ الفاظ کافی نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے ادا کرنے کی وہ بے تاب حرکتیں اور بے معنی صدائیں ہی متحمل ہو سکتی ہیں جو بغیر قبضہ اور تصرف کے آپ ہی آپ ظاہر ہوتی ہیں۔پس اگر ایک شاعر طلیق اللسان ہوتے ہوئے، الفاظ کے استعمال کرنے کی پوری قدرت رکھتے ہوئے ، باوجود گہرا مطالعہ رکھنے کے، باوجود طبیعت پر پورا پورا زور ڈالنے کے باوجود تنہائی اور خلوت میں کوشش کرنے کے باوجود ویرانوں اور جنگلوں میں اس مضمون پر غور کرنے کے پورے طور پر اسے ادا نہیں کر سکتا اور یہی کہتا ہوا گزر جاتا ہے کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا وہ نہ کہہ سکا تو مولوی رحمت علی صاحب یا کسی اور سے کس طرح ممکن تھا کہ ابو بکر صاحب کے جذبات اور احساسات کو پورے طور پر بیان کر سکتا۔اور اس بات کی امید ہی کس طرح کی جا سکتی تھی لیکن ان کی آواز بے اثر نہ رہی اور نہ بے اثر رہ سکتی تھی۔اگر کوئل کی کوکو ، بلبل کی صدا اور قمری کی آواز کوئی معنی اور مطلب رکھتی ہے اور سننے والے کے دل میں اثر پیدا کرتی ہے تو دور دراز سے آنے والے ایک بھائی کی آواز جس کے الفاظ خواہ ہم سمجھ نہ سکیں کیوں ہم پر اثر نہ کرے گی۔گو مولوی رحمت علی صاحب نے ان کی تقریر کا ترجمہ کر دیا ہے مگر میں سمجھتا ہوں اس ترجمہ سے بہت زیادہ قیمتی تھی وہ وہ آواز، وہ لہجہ اور وہ تاثر جوابو بکر صاحب کے چہرہ سے ظاہر ہو رہا تھا۔اور جو یادگار کے طور پر