زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 386

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 386 جلد اول قائم رہیں گے۔اور ہم کہہ سکتے ہیں ہمارے ایمان میں ان کی وجہ سے اسی طرح زیادتی ہوئی ہے جس طرح ان کے ایمان میں قادیان آنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قادیان ایک نبی کا قائم کردہ مرکز ہے، اس میں بھی شبہ نہیں کہ قادیان اس زمانہ کے مامور کا مولد اور مدفن ہے، اس میں بھی شبہ نہیں کہ دنیا کی آئندہ بہبودی کے لئے خدا تعالیٰ نے اسے منتخب کیا ہے۔اس لئے یہاں اخلاص اور تقویٰ کی راہ سے ہر آنے والا اپنے ایمان میں زیادتی پاتا ہے۔مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ اس کا آنا ہمارے لئے بھی جو قادیان میں رہتے ہیں ایمان کی زیادتی کا باعث ہوتا ہے۔ہم نے ان تمام مدارج کو دیکھا جن میں سے قادیان آج تک گزرا۔ہم نے اُس وقت بھی قادیان کو دیکھا جب یہ بہت اونی حالت میں تھا۔اُس وقت بھی دیکھا جب لوگ یہاں آتے اور آ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آگے اس لئے گریہ وزاری کرتے کہ ہمارے علاقہ میں کوئی احمدی نہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیغام حق کے پہنچانے کے لئے جو کوششیں کیں انہیں دیکھا۔پھر ان جوابوں کو بھی دیکھا جو مخالفوں کی طرف سے آپ کو دیئے جاتے۔پھر سب سے زیادہ اثر کرنے والی آواز کو جو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اٹھائی گئی تھی بے اثر ہو کر لوٹتے دیکھا۔ہم نے اس صدا کو جو خدا تعالیٰ نے دنیا کو گونجا دینے کے لئے بلند کی ایک وقت اس طرح بے کار ہوتے دیکھا گویا وہ کسی نہایت ہی ادنی ہستی کی طرف سے بلند کی گئی ہے۔مگر پھر اس آواز سے باریک ترنم کو دلوں میں جنبش کرتے بھی دیکھا۔آہستہ آہستہ لوگوں کو اس کی طرف مائل ہوتے دیکھا۔غرض ہر قدم جو ترقی کی طرف بڑھا اسے دیکھا۔اور ہر آنے والے کل میں برکتوں اور رحمتوں میں ترقی دیکھی۔حتی کہ ملکوں کے بعد ملک اور عالموں کے بعد عالم متاثر ہوتے دیکھے۔مگر یہ ساری ترقیات ان کلمات کی برکات تھیں جو آج سے پچاس سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئے تھے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا " 66 اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔1