زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 384

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 384 جلد اول مکرم جناب سیٹھ ابوبکر ایوب صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ سماٹرا کی قادیان سے سماٹرا کے لئے روانگی 10 جنوری 1930ء کو جناب سیٹھ ابوبکر ایوب صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ سماٹرا نے سماٹر اروانگی سے ایک دن قبل احباب سے ملاقات کی غرض سے ایک دعوت چائے کا انتظام کیا جس میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی بھی شامل ہوئے۔مکرم ابوبکر صاحب کی تقریر کے بعد حضور نے تشہد ، تعوذ اور تلاوت سورۃ فاتحہ کے بعد جو خطاب فرمایا وہ حسب ذیل ہے۔گو میز بانی کا فرض تو ہم لوگوں کے ذمہ تھا لیکن چونکہ سیٹھا ابو بکر صاحب کی خواہش تھی کہ میں انہیں موقع دوں کہ وہ ان دوستوں کو جمع کر کے ان کا شکر یہ ادا کر سکیں جنہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں ان کا یہاں آنا ان کے لئے مفید بنایا ان سے ہمدردی اور محبت کا اظہار کیا اس لئے میں نے انہیں اجازت دے دی۔اس وقت ابو بکر صاحب نے اپنی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور باوجود اس کے کہ ہم ان کی زبان نہ سمجھتے تھے اگر مولوی رحمت علی صاحب ان کی تقریر کا ترجمہ نہ کرتے تو بھی ان کے الفاظ نہایت قیمتی تھے۔آپ لوگ جانتے ہیں ایک شاعر اپنی نازک خیالیوں کو کوئل کی کوکو میں پڑھتا اور اس کی آواز میں اپنے لئے پیغام سنتا ہے۔وہ بلبل کی آواز میں ایک معنی پاتا ہے اور قمری کی صدا اسے ایسے مطالب کی طرف راہ نمائی کرتی ہے جو الفاظ میں ادا نہیں ہو سکتے۔پھر شاعر کے بعد شاعر دنیا میں آتا ہے، غزل گو کے بعد غزل گو آتا ہے وہ سارے کے سارے اپنا