زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 375
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 375 جلد اول احمدی مبلغین کی خدمات اور احمدی نوجوانوں سے خطاب 15 نومبر 1929ء کو حضرت نواب صاحب کے باغ میں احمدیہ انٹر کالجیٹیٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے مکرم مولوی رحمت علی صاحب مبلغ سماٹرا ( انڈونیشیا) کی ان کی سماٹرا سے واپسی پر دعوت کی گئی جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور تلاوت سورۃ فاتحہ کے بعد جو خطاب فرمایا وہ درج ذیل ہے۔مجھے بیماری کی وجہ سے ان پارٹیوں میں شرکت کا موقع نہیں ملا جو مولوی رحمت علی صاحب کی آمد کی تقریب پر یا ان سماٹری احباب کے اعزاز کے طور پر دی گئیں جو ان کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ایسی پارٹی میں شامل ہونے کا مجھے موقع ملا ہے۔اب ایک طرف تو ہمارے ان عزیزوں کی یہ خواہش ہے کہ انہیں نصائح کروں جنہوں نے یہ پارٹی دی ہے اور دوسری طرف یہ امر ہے کہ اس قسم کی پہلی تقریب میں شمولیت کا موقع ملا ہے اس کے متعلق کچھ بیان کروں۔اس لئے حیران ہوں کہ دونوں جذبات اور مطالبات میں سے کسے پورا کروں۔تاہم میں کوشش کروں گا کہ اختصار کے ساتھ دونوں پہلوؤں پر کچھ کہہ سکوں۔مولوی رحمت علی صاحب ان چند مبلغین میں سے ہیں جن کو ہندوستان سے باہر جا کر تبلیغ کا موقع ملا ہے اور جو انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے سکول لائف یا کالج لائف میں معا بعد اس عظیم الشان کام کو شروع کر دیا جس کام کے کرنے سے مسلمان ہزار سال سے ہچکچاتے چلے آتے تھے۔اور چند اس قسم کے ہیں جنہوں نے اپنی عمر کا ایک حصہ دوسرے کاموں میں گزار کر تجربہ حاصل کیا۔جیسے مفتی محمد صادق صاحب