زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 355

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 355 جلد اول بھی ہو اور ہمارے نزدیک وہ کس قدر بھی غیر ضروری کیوں نہ ہو ملنا کوئی آسان کام نہیں۔ایک انگریزی اخبار میں ایک لطیفہ شائع ہوا تھا کہ ایک بوڑھا امیر آدمی اور اس کی بیوی ایک نہر کے کنارے سیر کے لئے گئے۔ایک غریب آدمی آیا اور اس نے اس عورت کو مخاطب کرنا چاہا مگر وہ نہ بولی۔اس نے پھر اسے مخاطب کرنے کی کوشش کی مگر اس نے پھر حقارت سے اسے اشارہ کیا کہ ہٹ جاؤ۔پھر تیسری دفعہ اس نے اسے مخاطب کرنے کی کوشش کی تو اس نے نہایت سختی سے اسے ڈانٹا کہ تم باز نہیں آتے۔اس پر اس شخص نے کہا مجھے تم سے بات کرنے کی تو کوئی خواہش نہیں میں تو صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ تمہارا بڑھا نہر کی میں گرا پڑا ہے۔ہمارے ملک میں چونکہ یہ رواج ہے کہ دیہاتوں میں امرا عام طور پر مکان کے باہر چار پائیاں بچھا کر بیٹھے رہتے ہیں اور ہر رہ گزران سے بات کر سکتا ہے اس لئے اگر کوئی مبلغ اخبار میں شائع کرائے کہ میں نے فلاں امیر سے گفتگو کی تو شاید لوگ کہیں یہ کتنا خود پسند آدمی ہے۔اگر کسی امیر سے مل لیا تو کون سی بڑی بات تھی کہ اسے اخبار میں شائع کرایا۔لیکن اگر اس کے ساتھ یہ بھی لکھا جائے کہ وہاں کی ملاقاتوں میں کس قدر مشکلات ہیں تو سب سمجھ سکتے ہیں کہ یہ اہم بات ہے۔پس میرا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے مشعوں کے حالات عمدگی سے لکھ کر شائع کئے جائیں تو اس قدر دلآویز ہوں کہ دوسرے اخبارات بھی انہیں نقل کریں اور دوسرے لوگوں پر بھی بہت اثر ہو۔لیکن جب تک کسی کو کوئی کام نظر نہ آئے صرف یہ کہنے سے کہ ہم نے لندن میں مشن قائم کر رکھا ہے دوسروں پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔اثر ہمیشہ کام دکھانے سے ہی ہوتا ہے۔مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ تصاویر دکھاتے ہیں کہ کس طرح حبشی بچے پہلے ننگے پھر رہے تھے اور اب ان کی یہ حالت ہے کہ اچھی طرح کپڑے پہنے ہوئے سکول میں بیٹھے پڑھ رہے ہیں۔اس پر لوگ انہیں بنی نوع انسان کا خادم سمجھتے ہیں اور بڑے بڑے آدمی ان کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور خود ملاقات کا اشتیاق ظاہر کرتے ہیں۔لیکن اگر صرف یہ کہا جائے کہ ہمارا ایک مبلغ افریقہ میں بھی ہے تو