زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 356
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 356 جلد اول لوگوں پر اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔وہ کہیں گے کہ کوئی آدمی فارغ ہوگا وہاں بھیج دیا۔لوگوں کو چونکہ کوئی کام نظر نہیں آتا اس لئے نوجوانوں میں قربانی کا جوش بھی پیدا نہیں ہوتا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کام میں بعض مبلغین بھی روک بن رہے ہیں۔کیونکہ وہ اپنے کام کی خود کوئی قدر نہیں کرتے۔وہ خود اپنے کام کو حقارت سے دیکھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں چونکہ ہم پچاس ساٹھ اشخاص شیخ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ کے پایہ کے نو مسلموں میں پیدا نہیں کر سکے اس لئے ہمارا کام کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اور یہ نہیں سوچتے کہ دین سے اس قدر غافل اور محمد رسول اللہ ﷺ سے اس قد رعنا د ر کھنے والی قوم میں اگر چند لوگ بھی ایسے پیدا ہو جائیں جو اسلام کی باتیں سننے پر آمادہ ہوں تو یہی اتنی بڑی بات ہے کہ میں اس کے لئے لاکھوں روپے خرچ کر دینا معمولی بات سمجھتا ہوں۔یہی لوگ جو آج بات سننے کے لئے تیار ہوئے ہیں یہ خود بڑے بڑے بزرگ لوگ پیدا کریں گے۔اس کے لئے وقت چاہئے۔دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کتنے بڑے نبی تھی لیکن انہوں نے کیا کام کیا۔صرف بارہ حواری پیدا کئے جن کی حالت کو دیکھ کر آج بھی لوگ ہنستے ہیں۔وہی پطرس جو باوجود اس وعدہ کے کہ اے خداوند ! میں تیرے لئے جان دے دوں گا۔1 اور حضرت مسیح کے اس قول کو یا در کھتے ہوئے کہ تو مرغ کی آذان سے پہلے تین بار میرا انکار کرے گا۔2 مسیح پر لعنت بھیجتا ہے۔مگر پھر وہی پطرس روم جاتا ہے اور کہتا ہے میں یسوع کے نام پر عزت حاصل کرنے جاتا ہوں۔اور وہ عزت کیا ہے؟ یہ کہ مجھے رویا میں دکھایا گیا ہے کہ وہاں مجھے صلیب پر لٹکایا جائے گا۔گویا جس پطرس نے ایک عورت سے ڈر کر یسوع پر لعنت بھیجی وہی اس کے نام پر صلیب پر لٹکایا جانا اپنے لئے دنیا کی سب سے بڑی عزت یقین کرتا ہے۔تو ان ممالک کے متعلق جن کی بابت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان کا فتنہ اتنا بڑا ہے کہ سب نبیوں نے اس کی خبر دی ہے۔3 کوئی عظمند کس طرح سمجھ سکتا ہے کہ ہم وہاں جائیں اور وہ فوراً حلقہ بگوش اسلام ہو کر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج پر پہنچ جائیں۔اس کے لئے تو صدیاں درکار ہوں گی۔وہاں تو اگر ایک بھی ایسا شخص پیدا ہو