زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 29

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 29 جلد اول اس لئے فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا 11 جو ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم انہیں رستے دکھا دیتے ہیں۔ان مجاہدات میں سے چند کا ذکر اس جگہ کیا جاتا ہے۔اول صحبت صادقین۔صادقین کی صحبت ایسی ہے کہ اس کے ذریعہ انسان پاک کیا جاتا ہے۔صحبت کا اثر ایک مانی ہوئی بات ہے۔لوگ اکسیر کو تلاش کرتے پھرتے ہیں میرے نزد یک دنیا میں اگر کوئی اکسیر ہے تو صحبت صادقین۔مبارک وہ جو اس سے فائدہ حاصل کریں۔اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ أَمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِینَ 12 یعنی اے مومنو! تقویٰ اختیار کرو۔اور اس تقویٰ کے حصول کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ کہ تم صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔صادقوں میں ایک برقی اثر ہوتا ہے جس سے گناہوں کے جراثیم مارے جاتے ہیں۔صادق خدا کے حضور ایک عزت رکھتا ہے۔اس کے طفیل صادق سے تعلق رکھنے والا بھی باریاب ہو جاتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ اپنے ایک بھانجے پر اس لئے ناراض ہوئیں کہ وہ ان کے بہت صدقہ کرنے کا شا کی تھا۔آپ نے حکم فرما دیا کہ ہمارا بھانجہ بھی ہمارے گھر میں نہ آئے۔ایک روز چند صحابہ کبار نے باریابی کی اجازت چاہی جو انہیں دی گئی۔ان میں صدیقہ کے بھانجے بھی شامل تھے اور وہ بھی اندر چلے گئے۔13 دیکھا صادقوں کی صحبت نے کیا فائدہ دیا۔اسی طرح دیکھا گیا ہے کہ اچھی جنس کے ساتھ ادنی جنس مل کر بک جاتی ہے۔دوسرا ذریعہ نفس کا محاسبہ ہے۔یعنی ہر روز تم اپنے کاموں پر ایک تنقیدی نظر کرو اور دیکھو کہ تمہاری حرکت دنیا کی طرف ہے یا دین کی طرف ؟ اور آیا کوئی کام اللہ کی نافرمانی کا تو نہیں کیا؟ اور پھر اس کی اصلاح کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ 14 اے مومنو! تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور وہ تقویٰ یوں حاصل ہو گا کہ ہر جان نظر کرتی رہے کہ اس نے کل کے لئے کیا کیا۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کر واللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے خبر رکھنے والا ہے۔جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا نگران حال ہے اور اپنے