زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 30
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 30 جلد اول اعمال پر نظر ثانی کرتا ہے اور دیکھتا رہتا ہے کہ میں نے روز فردا کے لئے کیا تیار کی ہے وہ۔متقی بن جاتا ہے۔تیسرا ذریعہ گناہوں پر پشیمانی یعنی تو یہ ہے اَلسَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ له - 15 جو شخص اپنے گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرتا ہے وہ ان کے بدنتائج سے محفوظ رہتا ہے۔اور آئندہ کے لئے نیکی و تقومی کے واسطے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے اور شیطان کے مزید حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔حضرت معاویہ کی نماز فجر قضا ہوگئی۔اس پر ان کو اس قدر پریشانی ہوئی اور اس قدر وہ خدا کے حضور روئے اور چلائے کہ انہیں ایک نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب ملا۔دوسرے روز کسی نے انہیں اٹھایا۔پوچھا تو کون؟ کہا میں تو شیطان ہوں۔انہوں نے تعجب کیا کہ نماز کے لئے شیطان بیدار کرے۔اس نے کہا اگر میں نہ اٹھاؤں تو آپ ایک نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب پائیں۔16 غرض تم اپنی کسی لغزش پر اس قدر پشیمانی ظاہر کرو کہ تمہارا شیطان مسلمان ہو جائے۔چوتھا ذریعہ تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا رہے۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رات بھر سوچتا رہے اور پھر کہے کہ ابن عمر میرا کام کر دے گا تو خواہ مخواہ میری توجہ اس طرف ہوگی۔اس طرح جو انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا سہارا ہر امر میں ٹھہراتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر خاص توجہ کرتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ کی توجہ ہو وہ کیوں فرمانبردار نہ بنے گا۔پانچواں ذریعہ حصول تقویٰ کا استخارہ ہے۔یعنی ہر روز اپنے کاموں کے لئے استخارہ کرے اور اپنے مولیٰ سے دعا کرے کہ جو کام نیک اور تیری مرضی کے مطابق ہیں ان کی تو فیق عطا ہو۔اور جو تیری مرضی کے موافق نہیں ان سے مجھے ہٹالے۔اگر ہر روز ایسا نہ کر سکے تو ہفتہ میں ایک بار تو ضرور ہی کرے۔چھٹا ذریعہ یہ کہ دعاؤں میں لگا ر ہے۔جو شخص اپنے اللہ سے دعا کرتا رہے اللہ اسے اپنی رضا مندی کی راہیں دکھاتا ہے اور گمراہ ہونے سے بچاتا ہے۔ساتواں ذریعہ وَلَبِنُ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ 17 سے ظاہر ہے کہ جس