زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 28

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 28 جلد اول تقویٰ انبیاء کی بعثت سے الغرض فرمانبرداری کامل محبت یا کامل خوف پر ہے اور اس کے لئے اللہ نے دو سامان مقرر کئے ہیں۔ایک آسمانی ایک زمینی۔آسمانی سامان جس سے لوگوں میں فرمانبرداری یا تقویٰ پیدا ہو وہ انبیاء کی بعثت ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ تقویٰ کی روح دنیا سے گم ہو چلی ہے تو انہوں نے اپنے مولیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کی رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِ منْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَ۔اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ والے ہمارے رب! ان میں ایک رسول انہی میں سے مبعوث کر جوان پر تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناوے اور ان کو کتاب و حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے۔تحقیق تو عزیز و حکیم ہے۔یہ دعا قبول ہوئی اور ایک رسول مبعوث ہوا جس نے اکھڑ سے اکھڑ قوم میں فرمانبرداری کی روح پیدا کر دی۔انبیاء کا ہاتھ خدائے قدوس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس لئے جو اُن سے تعلق پیدا کرتا ہے وہ بھی پاک کیا جاتا ہے۔ان کی مثال بجلی کی بیٹری سی ہے کہ جس کا ذرا بھی تعلق اس کے ساتھ ہوا وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہا۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہزاروں ٹمپرنس سوسائٹیاں (Temperance Societies) 10 اتنے سالوں الله سے کام کر رہی ہیں ان کا کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے دربار سے ایک آواز اٹھتی ہے اور تمام بلا استثناء شراب کے مٹکے لنڈھا دیتے ہیں۔مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ دنیا کے ادنی نفع کے لئے دین کو متاخر کرنے پر تیار ہیں مگر انہی مسلمانوں میں سے عبداللطیف ایک نبی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا ہے اور پھر دین پر اپنی جان تک قربانی کر دیتا ہے۔امیر کابل کی طرف سے ایماء ہوتا ہے کہ صرف ظاہر داری کے لئے کہہ دو میں مرزا کو مسیح نہیں مانتا مگر وہ سنگسار ہونا پسند کرتا ہے اور یہ کلمہ زبان پر نہیں لاتا۔ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ وہ آسمانی ذریعہ سے پاک کیا گیا۔دوسرا ذریعہ زمینی ہے جس سے مراد انسان کا اپنی طرف سے مجاہدہ ہے۔اس وقت روح انسانی کی حالت اس گھوڑے کی طرح ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ سدھایا جاتا ہے۔