زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 343

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 343 جلد اول کی ہے وہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی اس علم سے زمین پر بیٹھے کہ ہمارے بعض ساتھی تو فرش پر بیٹھے ہیں اور ہم زمین پر۔زمین پر بیٹھنا بری بات نہیں۔میں نے یورپ میں دیکھا ہے نہانے کے لئے بڑے بڑے لارڈ اور امرا اپنی بیویوں کے ساتھ ساحل پر لیٹے ہوتے ہیں۔کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے یہ زمین پر بیٹھنا نہیں جسے میں نے ناپسند کیا ہے۔جو چیز بری ہے وہ یہ ہے کہ ہم ایسا انتظام کریں جس میں ہمارے مدنظر یہ ہو کہ ہم میں سے بعض تو زمین پر بیٹھیں گے اور بعض کسی اور چیز پر۔ہم اگر اپنی طرف سے پورا انتظام کرتے ہیں اور پھر لوگ زیادہ آجائیں اور وہ زمین پر بیٹھ جائیں تو کوئی حرج کی بات نہیں۔اس سے خیالات میں دون ہمتی پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ قومی معاملات میں ایسی باتیں برداشت کرنی چاہئیں۔لیکن اگر یہ سمجھیں کہ ہمارے لئے تجویز ہی یہ کیا گیا ہے کہ ہم زمین پر بیٹھیں تو یہ اختلاف ہے۔اگر آسانی سے یہ انتظام ہو سکتا ہے کہ سارے ہی بنچوں پر بیٹھیں تو یہ اچھی بات ہے۔لیکن اگر ہمارے ذہن میں یہ ہو کہ کرسیاں تو ہیں اور ہم مہیا کر سکتے ہیں پھر بعض کو کرسیاں دیں اور بعض کو بیچ تو یہ بہت نامناسب بات ہو گی۔جس حد تک ممکن ہوا اگر ہم کوشش کریں اور پھر اگر لوگ زیادہ آجائیں اور کسی کو جگہ نہ مل سکے اور وہ زمین پر بیٹھ جائے تو یہ قربانی ہے۔لیکن جس چیز کو میں نے ناپسند کیا ہے وہ یہ ہے کہ بچے اس احساس کے ساتھ بیٹھیں کہ ہمارے لئے مدنظر ہی یہ رکھا گیا ہے کہ ہم زمین پر بیٹھیں۔کام کے لحاظ سے تو میں اس بات کو پسند کرتا ہوں اور میری دیرینہ خواہش ہے کہ جہاں مہمان خانہ بنانے کی تجویز ہے اور جہاں بھرتی پڑتی ہے وہاں اپنے ہاتھ سے بھرتی ڈالیں تا ہاتھ سے کام کرنے کی روح ہم میں قائم رہے اور قومی امور میں اعزاز کا خیال ہمارے رستہ میں حائل نہ ہو۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے مدارس میں جو زبانیں پڑھائی جاتی ہیں ان میں ایڈر میں نہ دیئے جائیں نہ میں یہ کہتا ہوں کہ عربی یا انگریزی میں لیکچر نہ ہوں۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اگر ایک مفید چیز کا کچھ حصہ ضائع ہو جائے تو یہ امر تکلیف دہ ضرور ہے۔