زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 342
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 342 جلد اول اپنی ذمہ داریوں کو بھلا دے۔اور بعض اوقات کے الفاظ پر میں اس لئے زیادہ زور دیتا ہوں کہ انسانی طبائع کو خدا تعالیٰ نے گو پاک بنایا ہے مگر شاید تربیت کے نقص یا صحبت کی خرابی یا اور کسی وجہ سے کثرت ایسی ہے کہ وہ آسانی سے ان غفلت کے لمحوں کی طرف مائل ہو جاتی ہے جو اسے حقیقی کاموں سے روک دیتے ہیں۔اس لئے میں بعض کے لفظ پر زور دوں گا کیونکہ انسان پہلے ہی اس کی حدود سے تجاویز کر چکا ہے۔تو بعض لمحوں میں ضرورت ہوتی ہے کہ ہم ان خیالات کو یا ان کی حدت اور سختی کو کم کر دیں تا ہم میں وہ ہمت پیدا ہو جو فرائض کی ادائیگی میں مد ہو۔عام دعوتوں میں کوشش کی جاتی ہے کہ ایسے طریق سے گفتگو ہو جس کا سننا شامل ہونے والوں کو بوجھ معلوم نہ ہو۔لیکن جن دعوتوں کی غرض یہ ہو کہ کسی کارکن کی خدمت پر اظہار امتنان کیا جائے یا جس میں کسی آئندہ ہونے والی خدمت کے لئے امیدوں کا اظہار کیا جائے اور ان کے متعلق امید کی جاتی ہے کہ وہ ایسے رنگ میں ہوں کہ ان سے دعوت دینے والے اور دعوت کھانے والے دونوں کو فائدہ پہنچے۔یہی وجہ ہے کہ ایڈریس دیئے جاتے ہیں ورنہ خالی اظہار تشکر تو چائے کی پیالی سے بھی ہو سکتا ہے۔لیکن جب اس کے ساتھ ایڈر میں اور پھر اس کا جواب ہو تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم یہاں صرف کھانے کے لئے جمع نہیں ہوئے بلکہ مقصد کچھ اور ہے اور یہ محض ایک ذریعہ ہے۔پس جب مدعا اس سے بالا ہوا تو ضروری ہے کہ اسے بہتر سے بہتر طریق پر پورا کیا جائے۔اس لئے ایسی دعوتیں ایسے وقت پر ہونی چاہئیں کہ انسان زیادہ وقت دے سکے۔اس کے بعد میں نے آج ایک بات کی ہے اس کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں تا کوئی اس سے غلط اندازہ نہ لگا سکے۔میں ان لوگوں میں سے ہوں جو سختی سے اس بات کے قائل ہیں کہ قومی امور میں سادگی ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بارہا ہم لوگ مٹی پر بیٹھے ہیں اور اسی طرح حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بھی۔اور ایسے لوگ بیٹھتے رہے ہیں جن کی سلسلہ میں عظمت قائم ہو چکی تھی۔لیکن میں نے جو بات نا پسند