زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 344

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 344 جلد اول ہماری مجالس عام طور پر مشترکہ مجالس ہوتی ہیں جن میں سب قسم کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔پس اس وجہ سے یہ امر قابل افسوس ضرور ہوتا ہے اگر ہم اس چیز کو جس سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے محدود کر کے اس کے دائرہ کو تنگ کر دیں۔در د صاحب نے اپنی تقریر میں اپنے تجربہ کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں ہے۔اس میں دو باتیں نہایت لطیف ہیں جن کا سمجھنا دوسروں کے لئے بھی بہت مفید ہو سکتا۔ان کے علاوہ اور باتیں بھی ہیں جو سبق آموز ہیں۔لیکن دو تو بہت ہی ضروری ہیں۔میں نے انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے ہمسایوں کی طرف زیادہ توجہ دیں۔آتے وقت میں نے انہیں کچھ ہدایتیں لکھ کر دی تھیں جن میں خصوصیت سے ہمسایوں سے تعلقات قائم کرنے کی تلقین کی تھی۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں اس کے بغیر کوئی مشن کا میاب نہیں ہو سکتا۔میں نے دیکھا کہ ہمارے مبلغین ہمسایوں سے قطعاً نا واقف تھے اور میرے پوچھنے پر انہوں نے جواب دیا کہ لوگ ملنا پسند نہیں کرتے۔لیکن میں نے انہیں بتایا کہ دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں جس میں کچھ لوگ ایسے نہ مل جائیں جنہیں اس کام کی Hobby یا سودا2 نہ ہو۔پس ایک مبلغ کی کامیابی کا یہ معیار ہر گز نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے ارد گرد چند ایسے لوگ جمع کرلے جنہیں مذہبی بحثیں کرنے کا سودا ہو۔اور ایسے لوگوں کو تلاش کر لینا کوئی کامیابی نہیں سمجھی جاسکتی۔یہ محض وقت گذارنا ہے۔ایسے لوگوں کو جمع کر لینے سے کوئی شخص مبلغ کو کامیاب نہیں کہہ سکتا۔لیکن اگر کوئی مبلغ اپنے ہمسایوں سے تعلقات پیدا کر لیتا ہے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے صرف مذہبی Hobby والوں کو اپنے اردگرد جمع کر لیا ہے۔پس مبلغ کی لیاقت اور قابلیت اسی میں ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے تعلقات بڑھائے جن کے متعلق یہ خیال بھی نہ ہو کہ انہیں مذہبی امور سے کوئی دلچسپی ہے اور یہی اس کی کامیابی سمجھی جاسکتی ہے۔دوسرے اس میں یہ ایک خطرناک نقص تھا کہ اگر کوئی شخص ہمسایہ میں رہے اور اس کے حالات سے لوگ واقف نہ ہوں اور ایک دوسرے سے تعلق نہ رکھتے ہوں تو وہ لوگ اسے Mysterious سمجھتے ہیں۔ایک انگریز اگر اپنے انگریز ہمسایہ سے سالہا سال