زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 337
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 337 جلد اول سخت جرم ہے۔مومن کو بھی یہ خیال بھی نہیں کرنا چاہئے کہ کوئی کام ہو نہیں سکتا یا فلاں کام بہت مشکل ہے اور ہماری کوشش اور محنت بالکل حقیر ہے۔پس ہمارے مبلغین کو خاص خیال رکھنا چاہئے کہ انکسار کا یہ پہلو پیدا نہ ہو۔ایک تیسری قسم انکسار کی یہ ہوتی ہے کہ انسان کو صرف اپنی ذات پر ہی بدظنی نہیں ہوتی بلکہ اس کی آنکھ سے خوبی ہی مٹ جاتی ہے اور وہ دوسرے کی خوبی کو بھی نہیں دیکھ سکتا۔یہ انکسار ایک وسوسہ ہوتا ہے حقیقت میں اس میں خوبیاں ہوتی ہیں اور دوسروں میں بھی ہوتی ہیں۔لیکن اس کا نفس اپنے آپ کو ہی حقیر کر کے اس کے سامنے پیش کرتا ہے۔ہماری جماعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل چونکہ نیکی اور خشیت اللہ کے باعث انکسار زیادہ ہوتا ہے اس لئے ان کو انکسار کے اس پہلو سے بھی بچنے کی تاکید کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں۔دوسری بات جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ کام کرنے والوں کے متعلق رائے کا اظہار ہے۔در حقیقت جس صورت میں ہماری جماعت کے کام سر انجام پارہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے میں ہمیشہ کام کرنے والوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور اپنے دل کو خدا تعالیٰ کے تشکر کے جذبات سے معمور پاتا ہوں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض اوقات انسان ایسے مقام پر کھڑا ہوتا ہے کہ وہ اپنے دلی جذبات کا اظہار نہیں کر سکتا اور اس کی ذمہ داریاں اور ان لوگوں کی ہمدردی جن سے تعاون کر کے وہ کام ہوتے ہیں چاہتے ہیں کہ دلی جذبات کو چھپایا جائے۔ہم نے ایک دفعہ ایک انجمن بنائی جس میں تقریریں کرنے کی مشق کی جاتی تھی اور اعلیٰ درجہ کی تقریر کرنے والوں کو انعام دیئے جاتے تھے۔میں اس میں جب بھی تقریر کرتا حضرت خلیفة المسیح الاول اس پر ہمیشہ جرح اور نکتہ چینی کرتے۔کچھ مدت تک اسی طرح ہوتا رہا۔میرے نفس نے دھوکا دیا اور میں نے خیال کیا کہ مولوی صاحب مجھ پر حد سے زیادہ سختی کرتے ہیں۔میں نے ایک مضمون لکھا اور اپنے ایک اسکول فیلو (School fellow) کو جو تقریر کرنا نہیں جانتا تھا پڑھنے کے لئے دیا۔جب اس نے مضمون پڑھا تو حضرت مولوی