زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 338
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 338 جلد اول نے اس کی از حد تعریف کی۔اس پر میرے دل میں اور احساس ہوا کہ مولوی صاحب مجھ سے سختی کرتے ہیں۔کچھ عرصہ بعد معلوم نہیں مولوی صاحب نے ہی مجھے بتایا یا خود ہی معلوم ہوا کہ انوری جو فارسی کا بہت مشہور شاعر گزرا ہے وہ شعر کہتا اور اس کا استاد اس کے اشعار سن کر کہہ دیتا تم طبیعت پر اچھی طرح زور دے کر نہیں کہتے۔اور باقیوں کی تعریف کرتا۔اس کے دل میں بھی یہی خیال پیدا ہوا کہ استاد مجھ سے نا منا سب سختی کرتا ہے۔آخر ایک دن اس نے اپنے اشعار پرانے بوسیدہ کا غذات پر لکھے تا کہ وہ کسی پرانے شاعر کا کلام معلوم ہوں اور جا کر کہا مجھے یہ شعر ملے ہیں۔استاد نے انہیں پڑھا اور خوب تعریف کی۔تعریف سن کر انوری نے کہا یہ تو میرا اپنا ہی کلام ہے۔یہ سن کر استاد نے کہا کہ اب تم ترقی نہیں کر سکو گے تمہارے کلام میں خوبی دیکھ کر میں نے چاہا تھا کہ تمہارے مخفی جو ہر ظاہر ہوں۔لیکن اب کہ تمہیں معلوم ہو گیا ہے کہ تم میں قابلیت موجود ہے تم اس سے آگے ترقی نہیں کر سکتے۔اور انوری نے لکھا ہے کہ میں نے واقعی اس کے بعد اپنے کلام میں کوئی ترقی نہیں کی۔سو کبھی اخلاق کی درستی کارکنوں میں توازن قائم رکھنے اور دیگر کئی ایک وجوہ کے باعث کام لینے والے کو جذبات کو دبانا پڑتا ہے۔لیکن یہ دبانے سے اور بھی تیز ہوتے ہیں۔ہر وہ شخص جو دین کا کوئی بھی کام کرتا ہے گو وہ اپنا فرض ہی ادا کرتا ہے لیکن خلیفہ پر احسان بھی کرتا ہے کہ اس کی ذمہ داری خلیفہ پر ہے۔اور میں اس احسان کو اچھی طرح محسوس کرتا ہوں۔ایک اور بات بھی ہے خلیفہ کے تعلقات جماعت سے باپ بیٹے کے ہوتے ہیں اس کی لئے جہاں اسے مختلف موقعوں پر جذبات کو دبانا پڑتا ہے وہاں دوسروں کا فرض ہے کہ انہیں ظاہر کریں۔خلیفہ نے چونکہ بہتوں سے کام لینا ہوتا ہے اس لئے اسے جذبات تو دبانے پڑتے ہیں لیکن دوسروں کو ضرور ظاہر کرنے چاہئیں۔کیونکہ جذبات کے اظہار سے ظاہر کرنے والوں کی حقیقت اور میلان طبعی کا پتہ چلتا ہے۔اور اگر ہر کوئی اپنے جذبات کو