زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 333
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 333 جلد اول دجال پکھل جائے گا۔اثر دھا سے مراد وہی دجالی فتنہ ہے۔اس کا مقابلہ سوائے دعا کے اور طرح نہیں ہوسکتا۔پھر میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ دعاؤں کے قبول ہونے کا یقین رکھ کر دعائیں کی جائیں اور خدا تعالیٰ پر یقین رکھیں کہ پوری کرے گا۔دعا اسی وقت رد کی جاتی ہے جب بے ایمانی سے کی جاتی ہے۔اس بے ایمانی کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کا انکار کیا جائے یا رسول اللہ ے کی رسالت کو نہ مانا جائے بلکہ یہ یقین نہ ہو کہ دعا قبول ہوگی۔جسے یقین نہیں ہوتا اس کی دعا خدا تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔جب تک کوئی شخص اس یقین کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتا کہ ضرور اس سے حاصل کروں گا خالی ہاتھ نہیں آؤں گا اس وقت تک اسے کچھ نہیں ملتا۔میں حافظ جمال احمد صاحب کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وہاں جا رہے ہیں جہاں احمدیت قائم ہو چکی ہے مگر وہاں ابھی نظام قائم نہیں ہوا جو ضروری ہے۔وہاں کی جماعت ابھی تنگ مرکزی چندوں میں حصہ نہیں لیتی یا ماہواری چندہ با قاعدہ ادا نہیں کرتی۔جب تک یہ بات قائم رہے گی اس وقت تک مرکز سے تعلق نہیں پیدا ہو گا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ مرکزی معاملات میں ان کو شریک کرنے کی کوشش کی جائے۔ابھی تک چونکہ ان لوگوں کو مبلغوں کی ضرورت ہے اس لئے وہ ہماری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اگر انہیں یہ ضرورت نہ ہو تو اتنا بھی تعلق نہ رکھیں۔پس وہاں یہ قاعدہ لازمی طور پر جاری کر دیا جائے کہ ان سے چندہ لیا جائے۔جس میں سے 25 فیصدی مرکز میں بھیجا جائے اور باقی 75 فیصدی وہاں خرچ کیا جائے۔ہندوستان کا بہت سا روپیہ بیرون ہند میں خرچ ہوتا ہے۔مگر یہاں کے لوگوں پر ذمہ داری بھی دوسروں کی نسبت زیادہ ہے۔یہاں باہر سے آنے والے مہاجروں ، مبلغوں ، طلباء اور مہمانوں کا خرچ 40 فیصدی کے قریب ہو رہا ہے۔اس لئے کہ ہندوستان پر ذمہ داری زیادہ ہے۔خدا تعالیٰ نے ہندوستان میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔اور خدا تعالیٰ نے اس ملک کے لوگوں کو سب سے پہلے مخاطب کیا۔اور جہاں پہلے مخاطب ہونے والوں کو انعام زیادہ دیے جاتے ہیں وہاں ان کی ذمہ داریاں