زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 332
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 332 جلد اول جماعت ایسی مضبوط بن جائے گی کہ اس پر ہر طرح سے اعتبار کیا جا سکے گا۔پھر ان لوگوں کا مرکز سے تعلق پیدا کرنا چاہئے۔امریکہ اور یورپ میں ایسی آزادی پھیلی ہوئی ہے کہ وہ لوگ سمجھتے ہیں کسی مرکز اور کسی انسان سے تعلق رکھنا حریت کے خلاف ہے حالانکہ روحانی امور میں ایک نظام پر سارا کام چلتا ہے۔جسمانیات میں نیچے سے اوپر کی طرف ترقی ہوتی ہے لیکن روحانیات میں اوپر سے نیچے کی طرف فیض پہنچتا ہے۔اس لئے روحانیت میں نظام بہت بڑا تعلق رکھتا ہے۔پس کوشش کرنی چاہئے کہ لوگوں کا مرکز اور خلافت سے تعلق مضبوط ہو۔ان کو یاد دلاتے رہنا چاہئے کہ مرکز میں خط لکھیں۔سلسلہ کی طرف سے جو تحریکیں ہوں وہ سنائی جائیں۔خطبات پڑھائے جائیں۔مذہبی طور پر خلافت کے نظام کی اہمیت بتائی جائے اور بتایا جائے کہ خلافت مذہبی نظام کا جز ہے۔ان تمام کاموں کے لئے سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ دعاؤں سے کام لیا جائے۔صلى الله حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کا سب سے بڑا ہتھیار دعا ہے۔رسول کریم ہے نے فرمایا ہے یا جوج ماجوج کے مقابلہ کی کسی میں طاقت نہ ہوگی۔لَا يَدَانِ لَاحَدٍ لِقِتَالِهِمْ 2 گویا ہا تھوں سے نہیں بلکہ دعاؤں سے اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ایک دفعہ میں نے رویا دیکھی۔میں نے دیکھا ایک اثر دھا ہے جو دوڑا چلا آتا ہے۔جو اس کے سامنے آتا ہے اسے کھا جاتا ہے۔وہ اس جگہ آیا جہاں میں کھڑا تھا اور میرے ساتھ کچھ اور دوست بھی کھڑے تھے۔وہ ایک دوست کے پیچھے بھاگا۔میں سونا لے کر اس پر حملہ آور ہوا کہ دوست کو بچاؤں مگر وہ اسے کھا گیا۔میں نے جب اس پر حملہ کیا تو وہ میری طرف لوٹا اور حملہ کیا۔دوست آگے بڑھے کہ اس کے حملہ کا جواب دیں۔میں نے اُس وقت انہیں کہا میں نے حدیث میں پڑھا ہے لَا يَدَانِ لَاحَدٍ لِقِتَالِهِمُ۔اس وقت ایک چار پائی ہے جو بنی ہوئی نہیں صرف لکڑیاں ہیں میں اس کے بازوؤں پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہو گیا اور اثر دھا اس کے نیچے گھس گیا۔اُس وقت میں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنی شروع کی اور وہ پگھلنے لگ گیا حتی کہ پانی پانی ہو گیا۔تو حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ