زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 331

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) تک مسلمانوں کی حکومت بھی رہی۔331 جلد اول ہمارے مبلغوں کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ روحانیت کا قیام قربانی سے وابستہ ہے۔مغرب میں جانے والے مبلغ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ قربانی اور روحانیت لازم و ملزوم ہیں۔میں دیکھتا ہوں جو مبلغ مغربی ممالک میں جاتے ہیں وہ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اگر ہم وہاں کے لوگوں سے دین کی خاطر قربانی کرنے کا مطالبہ کریں گے تو وہ پیچھے ہٹ جائیں گے۔اس میں شک نہیں کہ ان ممالک کی تمدنی حالت ایسی ہے کہ ان میں سے بہت پیچھے ہٹیں گے مگر جن میں قربانی کی عادت ڈالی جائے گی وہ آگے ہی آگے بڑھیں گے۔اس وقت تک اس ڈر نے کہ ان ممالک کے لوگ قربانی نہ کر سکیں گے بہت نقصان پہنچایا ہے۔اب اس کی اصلاح ہونی چاہئے۔جو لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہوں انہیں کہنا چاہئے کہ وہ دین کے لئے وقت اور مال کی ضرور کچھ نہ کچھ قربانی کریں۔جس طرح یہاں چندے لئے جاتے ہیں اسی طرح وہاں لینے چاہئیں خواہ تھوڑے ہی ہوں۔جب تک اس طرح نہ کیا جائے گا وہ پختہ نہ ہوں گے۔اور اگر ایک بھی پختہ ہو گیا تو وہ سینکڑوں کمزوروں سے اچھا ہوگا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ کسی کمزور کو لیا ہی نہ جائے۔لئے جائیں مگر ان کی علیحدہ علیحدہ سو سائٹیاں بنائی جائیں۔ایک وہ جو مسلمان نہ ہوں مگر اسلام سے دلچسپی لیتے ہوں ان کی سوسائٹی ہو۔دوسرے وہ جو مسلمان تو کہلاتے ہوں مگر اسلام کے لئے بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوں۔پھر احمد یہ ایسوسی ایشن ہو جس میں ان کو داخل کیا جائے جو چندہ دیں۔اور چندوں کے متعلق یہ ہوا ہے کہ جہاں ہندوستانی مبلغ کام کرتے ہیں وہاں سے 25 فیصدی مرکز میں آئے اور 75 فیصدی وہاں خرچ ہو۔جب مرکز کی حالت مضبوط ہو جائے تو 25 فیصدی سے بھی کم ہو سکتا ہے۔دو تین فیصدی مرکزی ضروریات کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔باقی اسی ملک میں خرچ کیا جائے گا۔جو چندہ مرکز میں آتا ہے وہ مرکزی نظام پر یا ایسی جگہ پر جہاں جماعت کمزور ہو یا بالکل نہ ہو وہاں خرچ کیا جاتا ہے۔اگر اس طریق پر کام چلایا جائے تو گو شروع شروع میں وقتیں ہوں گی مگر۔