زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 330
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 330 جلد اول جو دوست اب امریکہ جا رہے ہیں ان کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ امریکہ میں بہت بڑا میدان تیار ہے۔اور وہ آج تیار نہیں ہوا بلکہ اس کے تیار ہونے کی اُس وقت خبر دی گئی تھی جبکہ امریکہ ابھی معلوم بھی نہیں ہوا تھا۔اُس وقت رسول کریم اللہ نے پیشگوئی کی تھی کہ وہاں سے سورج نکلے گا۔پس امریکہ کی مغربیت کو مد نظر رکھ کر اور اس کی اہمیت کو مد نظر رکھ کر یقین ہے کہ وہاں بہت بڑا میدان اسلام کی اشاعت کے لئے موجود ہے۔میرا خیال ہے امریکہ میں اور خاص کر جنوبی ریاستوں میں اگر ہمارے آدمی قدم جما لیں تو بہت کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔کیونکہ وہاں ترقی کے بڑے رستے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ میری 17، 18 سال کی عمر تھی جب میں نے پڑھا تھا کہ ان ریاستوں میں سے کسی ایک میں ایک بنگالی جرنیل ہے۔وہ بنگالی جنہیں یہاں فوج میں بھرتی بھی نہیں کرتے وہاں اس قدر ترقی کر گیا۔اس کے یہ معنی ہیں کہ ہندوستانیوں کے لئے ترقی کرنے کا وہاں موقع ہے۔اگر ہمارے مبلغ اس علاقہ میں تبلیغ کرنے کی طرف توجہ کریں تو بہت کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔وہاں کے لوگوں میں ایک قسم کی سادگی پائی جاتی ہے اور وہ مالی لحاظ سے بھی دوسروں سے کم نہیں ہیں۔میں اپنے مبلغوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں۔محمد یوسف صاحب کے بھائی کو بھی گو ان کی ناتجربہ کاری کی حالت ہے مگر وہ خیال کر سکتے ہیں کہ جب ان کا بھائی گیا تھا تو اُس وقت اس کی بھی یہی حالت تھی مگر اس نے کام کیا۔ہر احمدی جو غیر ممالک میں جاتا ہے اسے ہم مبلغ سمجھتے ہیں خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔اور امید رکھتے ہیں کہ وہ تبلیغ کرنے میں اپنی طاقت کے لحاظ سے کو تا ہی نہ کرے گا۔امریکہ کی تبلیغ کا اثر یورپ پر بھی پڑے گا۔اس بات کو مد نظر رکھ کر ہمارے مبلغوں کو امریکہ کا میدان فتح کرنا چاہئے۔صحابہ کے وقت جب حضرت علی اور معاویہ میں جنگ ہوئی تو کئی صحابہ چین کی طرف چلے گئے اور وہاں انہوں نے اسلام کا بیج بویا۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہندوستان سے زیادہ وہاں مسلمان ہیں۔حالانکہ ہندوستان میں ایک عرصہ