زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 329

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 329 جلد اول پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت قریب آتا جاتا ہے مغرب کا لفظ یورپ سے نکل کر امریکہ کی طرف جانے لگ جاتا ہے، دولت اس کی طرف جھک رہی ہے، سیاسی فوقیت اسے حاصل ہو رہی ہے۔اس سے ماننا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ امریکہ سے ہی سورج چڑھائے۔گو انگریز بھی اس سے حصہ لیں گے کیونکہ ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی ہے۔مگر امریکہ کا اس میں بہت بڑا حصہ ہوگا۔ہم آج سے 5 سال پہلے اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے تھے۔میں نے اپنی ہوش میں اور یہ کوئی بڑا زمانہ نہیں ہے 18 سال کی عمر کو اگر بلوغت کی عمر قرار دیا جائے تو 21 سال بنتا ہے۔انگلستان کے وزراء کی تقریریں پڑھی ہیں جن میں کہا جاتا تھا کہ ہمارا قانون ہے کہ اگر ساری دنیا کی بحری طاقتوں کے مجموعہ کی تعداد 200 ہو تو ہماری طاقت 210 ہونی چاہئے۔مگر کچھ عرصہ کے بعد پھر یہ پڑھا کہ دس کی زیادتی رکھنے کی ضرورت نہیں ہے ساری دنیا کے برابر طاقت رکھنا کافی ہے۔پھر پڑھا دنیا کی طاقتوں سے مراد وہ طاقتیں ہیں جن سے ہماری لڑائی ہو سکتی ہے اس لئے ہم امریکہ کو ان میں شامل نہیں کرتے بلکہ فرانس اور جرمنی مراد لیتے ہیں۔ان کی بحری طاقت کے برابر ہماری طاقت ہونی چاہئے۔پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک بڑی سے بڑی حکومت کے مقابلہ میں 10 فیصدی طاقت کا زیادہ ہونا کافی ہے۔مگر اب تو یہی انگلستان جو کہتا تھا کہ کوئی ہم پر بحری طاقت کے لحاظ سے برتری حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتا یہ کہ رہا ہے کہ امریکہ کے متعلق ہم کچھ نہیں کہتے وہ مال دار ملک ہے جو چاہے کرے ہم اس کے مقابلہ کا بیڑا نہیں بنا سکتے۔یہ کتنا بڑا تغیر ہے جو 20 ،25 سال کے اندراندر رونما ہوا۔کہاں یہ حالت کہ امریکہ مالدار ہے جو چاہے کرے اور کہاں یہ صورت کہ اُس وقت جب یہ کہا گیا کہ سب دنیا کی بحری طاقتوں سے 10 فیصدی کی زیادتی کو اڑایا جائے تو پارلیمنٹ میں شور پڑ گیا۔مگر آج ایک بھی یہ نہیں کہتا کہ امریکہ سے ہماری طاقت کمزور کیوں ہو۔یہ عظیم الشان تغیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں اس پیشگوئی کا ظہور یورپ سے زیادہ ممکن ہے۔