زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 328
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 328 جلد اول سورج نکلنے کا مطلب یہ تھا کہ ایسے ملک کو اسلام کی طرف توجہ کرنے کی توفیق ملے گی جس کا اثر ساری دنیا پر گہرا پڑ رہا ہو گا۔اب دنیا پر سب سے زیادہ اثر رکھنے کا خیال بھی امریکہ کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔وہ لوگ جو اخبارات پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جس طرح 15، 20 سال پہلے ایشیا کی حکومتوں کے افعال اُس وقت تک نظر انداز کر دیئے جاتے تھے جب تک یورپین حکومتیں ان کی تصدیق نہ کریں اور جب تک یورپین حکومتیں کسی کام میں دخل نہ دیں۔پہلے کہا جاتا تھا یہ نہیں ہو سکتا اور ایشیائی حکومتوں کی باتوں کو ٹھکرا دیا جاتا تھا مگر ایشیا کی حکومتیں یورپین حکومتوں کی کسی بات کو ٹھکرا نہ سکتی تھیں۔جس طرح ایشیائی حکومتوں کو یورپین حکومتوں کی تحریک کا ادب اور احترام کرنا پڑتا تھا۔بعینہ یہی صورت اب امریکہ اور یورپ میں ہو رہی ہے۔یورپ والے ایک آواز اٹھاتے ہیں جس پر امریکہ والے مسکرا کر کہہ دیتے ہیں یہ لغو بات ہے یہ نہیں ہوسکتا۔مگر جب امریکن وزیر یا پریذیڈنٹ کوئی آواز اٹھاتا ہے تو سارے یورپ میں شور پڑ جاتا ہے اور کہا جاتا ہے سنو ! وہ کیا کہتے ہیں۔پارلیمنوں میں سوال کئے جاتے ہیں۔امریکہ نے فلاں نہایت اہم تحریک کی ہے ہماری حکومت نے کیوں ابھی تک اس کی طرف توجہ نہیں کی ؟ گویا سب یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ امریکہ کی آواز پر توجہ کرنا ان کے لئے ضروری ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ کسی نہ کسی نامعلوم ذریعہ سے دولت اور سیاست کا پانسہ امریکہ کی طرف جھک رہا ہے اور امریکہ کا ترازو یورپ کے ترازو سے بوجھل ہو رہا ہے۔اور جیسا کہ دستور چلا آیا ہے جو تراز و بوجھل ہو اسے دوسروں پر فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔یہی حالت امریکہ کی ہو رہی ہے۔ادھر امریکہ کو مغرب کہنے لگ گئے ہیں۔تو اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت امریکہ مغرب کے لفظ کا زیادہ مستحق ہے۔اور جب مغرب کہلانے کا امریکہ زیادہ مستحق ہے تو سورج چڑھنے کا بھی وہی زیادہ مستحق ہے۔اگر وہ اس کا مستحق نہ ہوتا تو جب تک یہ پیشگوئی نہ پوری ہو جاتی امریکہ مغرب نہ کہلا سکتا اور فوقیت کا ترازو اس کی طرف نہ جھک سکتا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جوں جوں اس