زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 315
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 315 جلد اول حضور دعا کریں کہ وہ اپنے فضل سے ہمارے مبلغین کی جانوں کی حفاظت کرے اور وہ دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھے۔ایک عرصہ سے شام کے حالات مخدوش ہو رہے تھے اس وقت تک جو لوگ احمدی ہو چکے ہیں ان میں سے کئی ایک کو قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ہمارے ایک دمشق کے دوست جو اس مجلس میں بھی بیٹھے ہیں ( بر اور احسان حقی صاحب ) ان کے ایک بھائی جو بہت مخلص احمدی ہیں ان کے متعلق مولوی جلال الدین صاحب نے لکھا تھا کہ انہیں تین چار آدمیوں نے جن کے پاس خنجر ہے ایک دن شہر سے باہر روک لیا اور کہا یا تو احمدیت سے تو بہ کردو ورنہ قتل کر دیں گے۔اسی طرح اور احمدیوں کے متعلق انہوں نے لکھا تھا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔پچھلے ہفتہ کی ڈاک میں جو خط آیا اس میں ذکر تھا کہ علماء نے کہا ہے گورنمنٹ احمدیوں کے متعلق کچھ نہیں کرتی ہمیں خود ان کا انتظام کرنا چاہئے اور ان کو قتل کر کے فیصلہ کرنا چاہئے۔پہلے انہوں نے گورنمنٹ کو احمدیوں کے خلاف بہت کچھ کہا اور ملک سے نکال دینے کا مطالبہ کیا۔مگر گورنمنٹ نے اس معاملہ میں دخل نہیں دیا۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ فرانسیسی گورنمنٹ ہے اسے ذاتی طور پر احمدیوں کے ساتھ احمدی ہونے کی وجہ سے کوئی دشمنی اور عداوت نہیں ہو سکتی۔دوسرے وہاں پادری بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں ان کے خلاف جب لوگوں نے گورنمنٹ سے شکایت کی تو گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کو نہ تو ملک سے نکالا جاتا ہے نہ تبلیغ سے روکا جاتا ہے۔مسلمانوں کو ان کی باتوں کا جواب دینا چاہئے۔جب گورنمنٹ پادریوں کے متعلق یہ فیصلہ کر چکی ہے تو اس کے لئے مسلمان کہلانے والے مبلغوں کو ملک سے نکال دینا مشکل امر ہے۔مولوی جلال الدین صاحب کے خط میں ذکر تھا کہ مولویوں نے جب احمد یوں کو مارنے کا فتویٰ دیا تو لوگوں نے انہیں کہا پادریوں کے متعلق بھی یہی فتوی دیا گیا تھا مگر کسی نے کچھ نہ کیا اب کس طرح کر لو گے۔انہوں نے کہا پادریوں کے متعلق مشکلات تھیں مگر