زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 316
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 316 جلد اول اب کر لیں گے۔بات یہ ہے کہ پادری ایک تو مال دار ہونے کی وجہ سے اپنی حفاظت کے لئے بہت کچھ سامان کر سکتے ہیں۔پھر پادری فرانسیسی ہیں ان کو مارنے کی وجہ سے یہ ڈر تھا کہ گورنمنٹ ناراض ہو جائے گی اور انتقام لے گی اس وجہ سے پادریوں پر ہاتھ نہ اٹھا سکے۔غرض مولوی جلال الدین صاحب کی پچھلی رپورٹوں سے معلوم ہو رہا تھا کہ مولویوں کی طرف سے ان پر قاتلانہ حملہ کی تجویز ہورہی ہے۔دوسرا تار پڑانگ علاقہ سماٹرا سے آیا ہے۔مولوی رحمت علی صاحب مولوی فاضل وہاں تبلیغ کے لئے بھیجے گئے ہیں۔وہاں ایک بہت بڑا مباحثہ قرار پایا ہے جو آج یا کل سے شروع ہو گا۔کئی سو علماء سارے علاقہ سے اکٹھے ہوئے ہیں۔خدا کے فضل سے وہاں جماعت قائم ہو گئی ہے۔کئی بارسوخ اور مال دار لوگ داخل ہو چکے ہیں۔جب مولویوں نے دیکھا کہ جماعت مضبوط ہو رہی ہے تو پہلے انہوں نے یہ کوشش کی کہ گورنمنٹ کو احمدیوں سے بدظن کریں۔اس کے لئے انہوں نے احمدیوں پر گورنمنٹ کے باغی ہونے کا الزام لگایا اور کہا انہیں اس ملک میں رہنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔مگر گورنمنٹ نے ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ کی۔اب انہوں نے بہت بڑا مباحثہ کا انتظام کیا ہے۔اس مباحثہ میں یہاں کے لحاظ سے عجیب بات ہے شاید وہاں اسے عجیب نہ سمجھا جاتا ہو کہ گورنمنٹ کے آفیسر بھی اس مباحثہ میں شامل ہوں گے اور سرکاری طور پر جلسہ کی رپورٹ لکھی جائے گی۔تین سو کے قریب علماء جمع ہوں گے اور پانچ دن تک مباحثہ جاری رہے گا۔ایک دوسرے ملک میں نہ تو پوری کتب مہیا ہو سکتی ہیں اور نہ دوسرا سامان اور بعض اوقات مخالفین جب کثرت سے ہوں تو گھبرا بھی دیا کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے جب پہلے پہلے آپ اہلحدیث ہوئے تو ایک مسجد میں مولویوں سے مباحثہ قرار پایا۔ایک حوالہ پر بحث ہو رہی تھی۔مولوی اس کی صحت کا انکار کرتے تھے۔فرماتے میں نے کتاب سے حوالہ نکال کر سامنے رکھ دیا۔یہ دیکھ کر ایک بڑے مولوی نے بڑی ہمدردانہ شکل بنا کر مجھے کہا گھبرا کیوں گئے ہو ہم تمہیں کہتے کچھ نہیں۔اس سے اس کا مطلب یہ تھا