زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 302
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 302 جلد اول عین گولہ باری کے نیچے تبلیغ کی۔اس پر ہمارے دشمن بھی حیران ہیں۔سفر میں اس بارہ میں بعض غیر احمدیوں سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے ہمارے مبلغین کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور کہا آپ ہی کے مبلغ اصل کام کرنے والے لوگ ہیں جو کسی خطرہ کی پرواہ نہیں کرتے۔مجھے تعجب ہوگا اگر غیر احمدی تو ہمارے مبلغین کی قدر کریں مگر احمد ی نہ کریں۔میرے نزدیک شاہ صاحب نے اس سفر میں ایک بڑا کام کیا ہے گو وہ ہوا اتفاقی ہے۔وہ عراق کے متعلق ہے۔سیاستا یہ ایک ایسا کام ہے کہ جو دور تک اثر رکھتا ہے۔مجھے خدا تعالیٰ نے تاریخ سے انس دیا ہے اس لئے میں جانتا ہوں کہ کوئی مورخ کون سے واقعات چنے گا۔اور میں سمجھتا ہوں اگر کوئی مؤرخ ہمارے سلسلہ کے متعلق کتاب لکھے گا تو وہ ایسے واقعات تو چھوڑ دے گا جن کو اس وقت ہم لوگ اہم اور بڑے سمجھتے ہیں مگر اس واقعہ کو لے لے گا۔بعض واقعات اس قسم کے ہوتے ہیں جو اپنے وقت میں بڑا شور برپای کرتے اور تہلکہ مچادیتے ہیں لیکن اگلی نسل کو ان کا خیال بھی نہیں آتا۔یہی دیکھو اس وقت انگلستان میں جو سٹرائیک ہوئی ہے اس کی ایسی حالت ہے کہ ممکن ہے حکومت تباہ ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سٹرائیک ٹوٹ جائے۔لیکن خواہ کچھ ہو ایک مورخ اس کا ذکر نہیں کرے گا لیکن لائڈ جارج کی تقریروں کا ضرور کرے گا۔ان کے سفروں کا کرے گا۔ہاں اگر اس سٹرائیک کا یہ نتیجہ نکل آئے کہ ملک میں بغاوت پھیل جائے تب اس کو بھی لے لے گا۔تو کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو اپنے وقت میں بڑے خطرناک ہوتے ہیں مگر مؤرخ کی میں کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔کیونکہ وہ دنیا میں کوئی تغیر نہیں پیدا کرتے یا ان سے اس قوم کا کیریکٹر نہیں بنتا۔عراق میں تبلیغ احمدیت کا رکنا ایک عجیب بات تھی۔کیونکہ ہماری ہی ایک ایسی جماعت تھی جس نے شریفی خاندان کی جائز امنگوں کی تائید کی مگر باوجود اس کے جب اس خاندان کا آدمی عراق میں حکمران مقرر ہوا تو باقی سب لوگوں ، آریوں اور عیسائیوں کو اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت تھی مگر ہمیں نہیں تھی۔یہ بات دو وجہ سے