زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 301
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 301 جلد اول کرتے ہیں کہ ان کو لڑائی میں مزہ آتا ہے۔اب اگر لڑائی پیدا نہ ہو تو وہ قبول کر دہ بات کو چھوڑ کر کسی اور طرف چلے جائیں گے۔پھر بعض دفعہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ فلاں ނ جماعت میں ایسے خاص فوائد حاصل ہو سکیں گے جن کی خاطر اپنے پہلے رویہ کو بدل دینا چاہئے۔ایسے لوگ اگر سلسلہ میں داخل بھی ہو جائیں تو قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ایسے لوگوں کو اردگرد جمع ہونے دینا اور ان میں مشغول ہو جانا غلطی تھی جس سے کام کو نقصان پہنچا۔جو لوگ فائدہ اٹھا سکتے اور پھر فائدہ پہنچا سکتے ہیں وہ پیشہ ور ہیں ، تاجر ہیں ، مزدور ہیں۔یعنی وہ لوگ جن کو روٹی کمانے سے اتنی فرصت نہیں ہو سکتی کہ علمی مشاغل میں پڑے رہیں وہ چونکہ اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ اچھا کھا ئیں اور اچھا پہنیں اس لئے زیادہ وقت وہ کمانے میں خرچ کرتے ہیں۔ان کی یہ حالت نہیں ہوتی کہ کھانا کہیں۔کھالیں اور علمی باتوں میں پڑے رہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ اگر ہمارے مبلغ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے تو کامیابی ہوتی یا نہ ہوتی۔ممکن ہے ان کو تبلیغ کا جو موقع ملا وہ اسی لئے ملا کہ ان کے ارد گرد جمگھٹا ہوتا رہا۔مگر بہر حال اس طبقہ کی طرف ابتدا میں توجہ نہیں ہوئی۔اس غلطی کا یہ نتیجہ ضرور ہوا کہ جن کو تبلیغ کی گئی ان میں سے بعض کے قلوب میں تبلیغ نے گہرا اثر نہ کیا اور جن پر اثر کیا وہ وہی لوگ ہیں جو جدھر کی ہوا ہو ادھر ہی جھک جاتے ہیں۔بہر حال مبلغین نے جو کچھ ہو سکتا تھا کیا اور اب مولوی جلال الدین صاحب جس خطرہ میں کام کر رہے ہیں اس کی وجہ سے جماعت کو ان کی قدر کرنی چاہئے۔کامیابی کے متعلق یہ غلط اندازہ ہے کہ وہاں کتنی جماعت پیدا ہوئی ہے۔یا یہ کہ وہاں سے کتنا چندہ آتا ہے۔میں بھی اس طرح اندازہ لگایا کرتا ہوں۔مگر ہر بات کا موقع ہوتا ہے۔مختلف حالات کے ما تحت مختلف طریق اندازہ کے ہوتے ہیں۔اب تو معلوم ہوتا ہے کہ خدائی فعل اس رنگ میں ظہور پذیر ہو رہا ہے کہ ہمارے مبلغ کا وہاں ٹھہرنا ہی اس کی کامیابی ہے اور کچھ کام کرنا تو بڑی بات ہے۔میرے نزدیک علاوہ اس اخلاص کے اظہار کے جو شام کے مبلغین نے کیا اور