زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 303

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 303 جلد اول خالی نہیں تھی۔اول یہ کہ جو خدمات ہم نے کی تھیں وہ ان لوگوں تک نہیں پہنچی تھیں۔یا یہ کہ وہ جانتے تھے کہ ہم نے ان سے ہمدردی اور وفاداری کی ہے لیکن حالات اس قدر ہمارے خلاف تھے کہ وہ ہمارے بارے میں کچھ نہ کر سکتے۔یہ دونوں صورتیں سیاسی نقطۂ نگاہ سے ہمارے لئے خطر ناک تھیں۔کوئی قوم دنیا میں بغیر دوستوں کے زندہ نہیں رہ سکتی۔رسول کریم ﷺ نے بھی مدینہ میں یہودیوں سے صلح کی۔پس ہمارے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ جب ہم بعض قوموں سے حق کی خاطر لڑائی کرتے ہیں تو اگر بعض کو اس حق کے لئے دوست بنا سکتے ہیں تو ان کو دوست بنا ئیں۔اس سے زیادہ مجرم اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی جو اپنے لئے دشمن تو بناتی ہے مگر دوست نہیں بناتی۔کیونکہ یہ سیاسی خود کشی ہوتی ہے۔ہم نے شریفی خاندان کی حمایت کے لئے اپنے ملک کو دشمن بنالیا مگر اس خاندان کو بھی دوست نہ بنا سکے۔لیکن اگر اس کو ہماری دوستی اور حمایت کا علم تھا اور پھر وہ مدد نہ کر سکتا تھا تو معلوم ہوا خطرناک زہر ہمارے خلاف پھیلا ہوا ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔شاہ صاحب وہاں اتفاقی طور پر گئے۔شروع میں ان کی اتنی غرض معلوم ہوتی ہے کہ وہاں جا کر تبلیغ کریں۔ممکن ہے ان کے مدنظر اور مفاد بھی ہوں اور میں سمجھتا ہوں اور تھے مگر انہوں نے ذکر نہیں کیا۔غرض وہ وہاں گئے۔وہاں کے حالات ایسے ہیں کہ گو وہاں کی حکومت انگریزوں کے ماتحت ہے مگر باوجود اس کے کہ ہم گورنمنٹ آف انڈیا کے ذریعہ کوشش کر چکے تھے مگر پھر بھی اجازت نہ حاصل ہوئی تھی۔وہاں سے ہمارے کئی آدمی اس لئے نکالے جاچکے تھے کہ وہ تبلیغ کرتے تھے۔اپنے گھر میں جلسہ کرنا بھی منع تھا۔ان حالات میں کوشش کر کے کلی طور پر روک اٹھا دینا بلکہ وہاں ایسے خیالات پیدا ہو جانا جو ان کے دل میں ہمدردی اور محبت ثابت کرتے ہیں بہت بڑا کام ہے۔شاہ صاحب نے بتایا ہے کہ وہاں ایک نیا کالج بنایا گیا ہے۔اس کے متعلق انہیں کہا گیا کہ آپ پروفیسر بھیجیں جو اس کالج میں دینی تعلیم دیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں ہماری وقعت پیدا ہو گئی ہے۔اس سے بڑھ کر