زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 296
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 296 جلد اول تو وہاں بھی گیا۔اور انہی پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے میں نے شاہ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب کو وہاں بھیجا۔ان کے جانے کے بعد جو دمشق میں تغیرات ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ دمشق کے متعلق جو کچھ میں نے سمجھا وہ صحیح تھا کیونکہ خدا تعالٰی کے فعل نے اس کی تصدیق کر دی۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک قوم جس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب آئے وہ حق رکھتی ہے کہ خدا پر اعتراض کرے۔اگر اس کے پاس عذاب سے پہلے کوئی مبشر اور منذر نہ آیا ہو۔اس سے بے شک یہ استدلال ہوتا ہے کہ نبی کے آنے کے بغیر عذاب نہیں آ سکتا۔لیکن اس سے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر کسی قوم کے پاس مبشر پہنچ جائیں اور عذاب نازل نہ ہو تو معلوم ہوا خدا تعالیٰ کے نزدیک ابھی وہ زمانہ نہیں آیا کہ اس قوم کو مخاطب کیا جائے اور ابھی وہ زمانہ نہیں آیا کہ اسے ہدایت قبول کرنے کی دعوت دی جائے۔دنیا کے تمام علاقے ایسے نہیں ہوتے کہ ایک ہی وقت میں سب کو مخاطب کیا جائے۔دنیا کے کئی حصے ایسے ہیں جہاں رسول کریم ﷺ کی بعثت کے تیرہ سو سال بعد نام پہنچا۔پس اگر کسی قوم میں مبشر پہنچیں مگر اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا فعل ظاہر نہ ہو تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ قوم ابھی انداز اور تبشیر کی مخاطب نہیں سمجھی گئی۔عام عذاب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد دنیا میں رونما ہوئے وہ اس ملک میں بھی آسکتے ہیں جہاں آپ کا نام نہیں پہنچا۔مگر اس کے علاوہ خاص عذاب ہوتے ہیں۔دیکھو اگر جنگ کا اثر ساری دنیا پر پڑا تو ہندوستان بھی اس سے محفوظ نہ رہا۔اگر زلازل ساری دنیا پر آئے تو ہندوستان میں بھی آئے۔اگر انفلوئنزا ساری دنیا میں پھیلا تو ہندوستان میں بھی پھیلا۔مگر باوجود اس کے ہندوستان پر علیحدہ عذاب بھی آئے کیونکہ دنیا کے علاوہ یہ سب سے پہلے مخاطب قوم سمجھی گئی۔شاہ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب کے جانے کے بعد دمشق پر جو عذاب آیا وہ بتاتا ہے کہ ہم نے جو دمشق کے متعلق سمجھا تھا کہ اس کے لئے انذار و تبشیر کا وقت آ گیا ہے وہ درست تھا۔ادھر میں وہاں گیا پھر یہ مبلغ بھیجے گئے اس کے بعد وہاں ایسا