زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 295
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 295 جلد اول میں اس تقریب سے آج زیادہ تر اسی قسم کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں اظہار شکریہ جو کسی مبلغ کی واپسی پر جماعت میں پیدا ہوتا ہے یہ طبعی بات ہے اور یہ وہ پیمانہ ہے جس سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے قلوب میں تبلیغ کے متعلق کیا جذبات موجزن ہیں۔بلکہ میں سمجھتا ہوں وہ بطور مقیاس کے ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے اندر تبلیغ کے متعلق جوش بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے یا اپنی جگہ پر قائم ہے۔پس طلباء مدرسہ احمدیہ نے شاہ صاحب کا جو شکریہ ادا کیا ہے یہ طبعی بات ہے اور اس کا جو شاہ صاحب نے جواب دیا ہے وہ بھی طبعی ہے۔انسان نے خواہ کوئی کام کیا ہو یا نہ کیا ہو اس کی طرف سے ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے عجز کا اعتراف کرے اور اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تعریف کرنے والوں کا شکر یہ ادا کرے۔بسا اوقات یہ تکلف سے ہوتا ہے اور بسا اوقات جذبات قلبی سے اس نے کام کیا ہوتا ہے اور مفید کام کیا ہوتا ہے مگر خیال کرتا ہے کہ تہذیب اور تمدن، اخلاق اور رسوم کے خلاف ہے کہ اس کا اعتراف وہ خود کرے۔اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر اپنے کام کا اظہار میں خود کروں گا تو لوگ اس کا اظہار چھوڑ دیں گے لیکن اگر میں اظہار نہیں کروں گا تو دوسروں کے ذکر کرنے پر قند مکرر کا مزا آئے گا۔میں اس طبعی جواب سے جو میں سمجھتا ہوں شاہ صاحب نے مومنانہ حیثیت سے قلبی اثرات کے ماتحت دیا ہے اس سفر کے حالات پر ریویو کرنے کا فائدہ اٹھاتا ہوں۔دمشق کے متعلق حضرت مسیح کی ایسی پیشگوئیاں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے اپنے ابتدائی کلام میں ایسے امور بیان فرمائے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ دمشق آخری زمانہ میں ایک خاص کام سر انجام دے گا۔ان کاموں میں سے بعض کا وقت تو آ گیا ہے اور بعض کا آنے والا ہے۔اس وجہ سے دمشق کی طرف جس شوق سے ہماری نگاہ اٹھ سکتی ہے دوسرے اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ان پیشگوئیوں میں سے بعض کو پورا کرنے اور بعض کے پورا کرانے کی تحریک کرنے کی غرض سے جب میں سفر یورپ پر گیا