زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 297

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 297 جلد اول عذاب آیا کہ دشمن بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔یہ اعتراف خاص اہمیت رکھتا ہے جس طرح زلزلوں کے متعلق یہ اعتراف اہمیت رکھتا ہے کہ جتنے اور جیسے خطرناک زلزلے گزشتہ میں سال میں آئے ویسے پہلے اتنی مدت میں کبھی نہیں آئے۔دمشق پر جس قسم کا عذاب آیا اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس قسم کے حالات کے ماتحت کسی جگہ بھی کبھی ایسا عذاب نہیں آیا کہ ایک ایسا شہر ہو جسے حفاظت کرنے والے بھی مقدس سمجھتے ہوں اور اس پر حملے کرنے والے بھی مقدس قرار دیتے ہوں مگر باوجود اس کے اس شہر کو اس طرح تباہ و برباد کیا جائے۔یہ عذاب استثنائی صورت رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک دمشق مخاطب ہو گیا ہے۔اور یہ خیال کرنا کہ دمشق کی تبلیغ کا وقت ابھی نہیں آیا خدا تعالیٰ کے فعل کو عبث قرار دینا اور اس کی سخت ہتک کرتا ہے۔اس کے بعد میں اس طریق عمل پر ریویو کرتا ہوں جو شاہ صاحب نے وہاں اختیار کیا۔میرے خیال میں ان کی راہ میں ایسی مجبوریاں تھیں جن کا انہیں جاتے وقت و ہم بھی نہ تھا۔شاہ صاحب وہاں اس امید پر گئے تھے کہ ان کے وہاں دوست ہیں جن کے ساتھ مل کر وہ کوئی عظیم الشان کام کریں گے۔مگر جب وہاں پہنچے تو جنگ شروع ہو گئی اور ان کی امنگیں پوری نہ ہوسکیں۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اگر دو آدمی آپس میں لڑیں تو لوگ دکانیں بند کر کے اور پیشہ ور اپنا کام چھوڑ کر لڑائی کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور پھر کئی دن تک وہ بات لوگوں کی زبان پر جاری رہتی ہے۔اور یہ طبعی بات ہے کہ اردگرد جو بات ہو اس کا نقش انسان کے دماغ میں قائم رہتا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ اس کے متعلق مختلف باتیں سنیں۔اس کی روایات پر اطلاع پائیں۔پس جب دو آدمیوں کی لڑائی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے تو جہاں تمام آبادی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہو اور مقابلہ گورنمنٹ سے ہو، بہت سے افراد اپنی جائیدادوں اور وطنوں کو چھوڑ کر اس خیال سے نکل کھڑے ہوں کہ ہم جنگل کے درندوں سے گزارہ کر لیں گے لیکن اس حکومت کے ماتحت نہیں رہیں گے اس قوم کو تبلیغ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔