زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 22
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 22 جلد اول تو کہتے ہیں دلیل دو۔جہاں دعوئی کا اثبات ہو وہاں دعوئی خود دلیل ہوتا ہے۔مثلاً حضرت صاحب کی نسبت کوئی پوچھے کہ مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟ تو ہم دعویٰ پڑھ دیں گے اور اس کی دلیل دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس نے دعوئی مانگا ہے۔لاہور یوں اور ہمارے درمیان حضرت صاحب کا دعویٰ ہی دلیل ہے۔جب بحث کرو تو مد مقابل کی بات کو سمجھو کہ وہ کیا کہتا ہے۔مثلاً تناسخ کی بات شروع ہوئی ہو تو فورا تناسخ کے رد میں دلائل دینے نہ شروع کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ میں بھی اختلاف آتا ہے۔اب اگر تم اس کے برخلاف دلیلیں دینے لگ پڑو اور آخر میں وہ کہہ دے کہ آپ تو میری بات سمجھے ہی نہیں تو تقریر بے فائدہ جائے گی۔اس کی بات سمجھو کہ آیا وہ وہی تو نہیں کہتا جو تمہارا بھی عقیدہ ہے۔بغیر خیالات معلوم کئے بات نہ کرو۔تناسخ کے متعلق بات کرو تو پوچھو کہ تمہارا تناسخ سے کیا مطلب ہے۔اس کی ضرورت کیا پیش آئی۔غرض ایسے سوالات کر کے پہلے اس کی اصل حقیقت سے آگاہ ہو اور پھر بات کرو۔اس طرح اول تو اس کے دعویٰ میں ہی اور نہیں تو پھر دلیلوں میں ہی تمہیں آسانی پیدا ہو جائے گی۔کوئی گورنمنٹ اپنے دشمن کو اپنا قلعہ نہیں دکھاتی۔قانون بنے ہوئے ہیں۔اگر کوئی کوشش کرے تو پکڑا جاتا ہے۔کیونکہ کمزور موقع معلوم کر کے پھر اس پر آسانی سے حملہ ہو سکتا ہے۔اس لئے پہلے کمزور موقع معلوم کرو اور پھر حملہ کرو۔تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا سیکھو۔تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا ایسا گر ہے کہ انسان اس کے ذریعے سے بڑے بڑے عہدے حاصل کرتا ہے۔انسان محنت کرتا ہے اور ایک وائسرائے بھی۔مزدور آٹھ آنے روز لیتا ہے وائسرائے ہزاروں روپیہ روز۔کیا وجہ ؟ وہ تھوڑے وقت میں بہت کام کرتا ہے۔اسی کا نام لیاقت ہے۔دوسرا طریق دوسروں سے کام لینے کا ہے۔بڑے بڑے عہدے دار خود تھوڑا کام کرتے ہیں دوسروں سے کام لیتے ہیں۔وہ تو خوب تنخواہیں پاتے ہیں لیکن ایک محنتی مزدور آٹھ آنہ ہی کماتا ہے۔یہ لیاقت کام کرنے کی لیاقت سے بھی بڑی ہے۔پس جتنی لیاقت کام کروانے کی ہو