زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 23

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 23 جلد اول گی اتنا بڑا ہی عہدہ ہو گا۔محمد رسول اللہ ﷺ کو کیوں سب سے بڑا درجہ ملا ہے؟ محنت کرنے میں تو لوگ جو سالہا سال غاروں میں رہتے تھے آپ سے بڑھے ہوئے تھے۔آپ میں کام لینے کی لیاقت تھی۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے انسان میں ایک طاقت رکھی ہے۔بہت جگہ سیکرٹری ہوتے ہیں، خود محنتی ہوتے ہیں ، لوگوں سے کام لینا نہیں جانتے۔پھر لکھتے ہیں لوگ مانتے نہیں۔دوسری جگہ سیکرٹری ہوتا ہے وہ خود تھوڑا کام کرتا ہے لیکن لوگوں سے کام لیتا ہے اور خوب لیتا ہے تمام انتظام ٹھیک رہتا ہے۔ہمیشہ اپنے کاموں میں خود کام کرنے اور کام لینے کی طاقت پیدا کرو۔ایسے طریق سے لوگوں سے کام لو کہ وہ اسے بوجھ نہ سمجھیں۔بہت لوگ خود محنتی ہوتے ہیں جب تک وہ وہاں رہتے ہیں کام چلتا رہتا ہے لیکن۔جب وہاں سے ہٹتے ہیں کام بھی بند ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے سلسلے جو ہوتے ہیں جب نبی مرجاتا ہے تو وہ سلسلہ مٹتا نہیں بلکہ اس کے آگے کام کرنے والے پیدا ہو گئے ہوتے ہیں۔یہ اس لئے کہ نبی ایک جماعت کام کرنے ا والی تیار کر جاتا ہے۔پس تمہارے سپر د بھی یہی کام ہوا ہے۔یہ ایک مشق ہوتی ہے خوب مشق کرو۔لوگوں میں کام کرنے کی روح پھونک دو۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں صحابہ میں کام کرنے کی ایک روح پھونکی گئی تھی۔ہر دو مہینے کے بعد کوفے کا گورنر بدلتا تھا۔حضرت عمر فرماتے تھے اگر کوفے والے مجھے روز گورنر بدلنے کے لئے کہیں تو میں روز بھی بدل سکتا ہوں۔ایسے رنگ میں کام کرو کہ لوگوں کے اندر ایک روح پھونک دو۔کبھی مت سمجھو کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مانتے نہیں۔عرب کی زمین کیسے شریروں کی تھی پھر کیسے شریفوں کی بن گئی۔یہ بات غلط ہے کہ وہ مانتے نہیں۔تم ایک دفعہ سناؤ دو دفعہ سناؤ آخر مانیں گے۔یہ اس شخص کی اپنی کمزوری ہوتی ہے جو کہتا ہے مانتے نہیں۔ہمیشہ اپنے کام کی پڑتال کرو۔کیا کامیابی اپنے کام کی پڑتال کرتے رہو ہوئی۔تمہارے پاس ایک رجسٹر ہونا چاہئے۔اس میں لکھا ہوا ہو کہ فلاں جگہ گئے۔وعظ فلاں مضمون پر کیا۔اس اس طبقے کے