زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 21
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 21 جلد اول مبلغ کا فرض ہے کہ ایسا طریق اختیار نہ کرے کہ کوئی قوم اسے اپنا دشمن سمجھے۔اگر یہ کسی ہندوؤں کے شہر میں جاتا ہے تو یہ نہ ہو کہ وہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی دشمن آیا ہے بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمارا پنڈت ہے۔اگر عیسائیوں کے ہاں جائے تو سمجھیں کہ یہ ہمارا پادری ہے۔وہ اس کے جانے پر ناراض نہ ہوں بلکہ خوش ہوں۔اگر یہ اپنے اندر ایسا رنگ پیدا کرے تو پھر غیر احمدی کبھی تمہارے کسی شہر میں جانے پر کسی مولوی کو نہ بلائیں گے، نہ ہندو کسی پنڈت کو اور نہ عیسائی کسی پادری کو۔بلکہ وہ تمہارے ساتھ محبت سے پیش آئیں گے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بڑے بڑے لوگوں کو جو کسی مذہب میں گزر چکے ہوں گالیاں دینے سے روکا ہے۔اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ تمام دنیا کے لئے نبی آئے اور انہوں نے اپنی امتوں میں ایک استعداد پیدا کر دی پھر بتایا کہ اسلام تمام دنیا کے لئے تبلیغ کرنے والا ہے۔۔تبلیغ میں یہ یاد رکھو کہ کبھی کسی شخص کے قول سے گھبراؤ نہیں اور نہ قول پر دارد مدار رکھو۔دلیل اور قول میں فرق ہے۔دلیل پر زور دینا چاہئے۔لوگ دلیل کو نہیں سمجھتے۔مسلمان آریوں سے بات کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں قرآن میں یوں آیا ہے۔آریوں کے لئے قرآن حجت نہیں۔تم رویہ دلیل کو پیش کرنے کا اختیار کرو تا جماعت احمدیہ میں یہ رنگ آ جائے۔دلائل سے فیصلہ کرو۔عقلی دلائل بھی ہوں اور نقلی بھی۔دلیل ایسی نہ ہو کہ حضرت مولوی نور الدین اتنے بڑے عالم تھے وہ بھلا مرزا صاحب کو ماننے میں غلطی کر سکتے تھے۔پس چونکہ انہوں نے مرزا صاحب کو مان لیا اس لئے حضرت صاحب بچے ہیں۔ایسی دلیل نہیں ہونی چاہئے۔بلکہ دلیل سے بات کرو تا کہ جماعت میں دلائل سے ماننے کا رنگ پیدا ہو۔اگر جماعت میں دلائل سے ماننے کا رنگ پیدا ہو جائے تو پھر وہ کسی شخص کے جماعت سے نکلنے پر گھبرائیں گے نہیں۔کچی اتباع پیدا کرو۔جھوٹی اتباع نہ ہو۔آریوں کے سامنے قرآن شریف دلیل کے طور پر پیش کرو۔اس طرح پیش نہ کرو کہ تم مانتے ہو۔ایک اور دھوکا بھی لگتا ہے کہ بعض پھر دعوی کے لئے بھی دلیل مانگتے ہیں۔دعوئی پڑھو