زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 270
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 270 جلد اول میں اپنی تعریف ہی سمجھا جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص مہمان کی خاطر تواضع کرتا ہے اور پھر کہتا ہے افسوس میں آپ کی کچھ خدمت نہ کر سکا تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ میں نے خدمت کی ہے۔اسی طرح جو شخص کہتا ہے میں نے کچھ نہیں کیا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کیا تو ہے مگر میں نہیں کہتا تم کہو کہ میں نے کیا ہے۔اس کی مثال وہی ہوتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک ہندو تھا جسے گوشت سے نفرت تھی مگر امیر آدمی تھا مزیدار کھانے کھانے کا شوقین تھا لیکن روز دال کہاں مزیدار بن سکتی ہے اس لئے جو باورچی رکھتا چند دن کے بعد اسے نکال دیتا۔آخر ایک نوکر آیا جس نے یہ طریق اختیار کیا کہ مختلف طریق سے گوشت پکا کر اس کا مصالحہ دال میں ڈال دیتا اور اس طرح دال بہت مزیدار ہو جاتی۔وہ ہندو اس کی بہت تعریف کرتا کہ بڑا اعلیٰ کھانا پکاتا ہے اس وجہ سے اسے انعام بھی دیتا۔اس طرح جب اسے گوشت کھانے کی خوب عادت ہو گئی تو ایک دن اس نے کہا آج میں باورچی خانہ میں ہی بیٹھ کر گرم گرم کھانا کھاؤں گا۔اس سے باورچی کو فکر ہوئی کہ میں گوشت کا مصالحہ دال میں نہ ڈال سکوں گا اس لئے اس نے بہتیرے بہانے بنائے کہ وہاں دھوئیں کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہوگی میں گرم گرم کھانا آپ کو پہنچا تا رہوں گا مگر اس نے ایک نہ مانی اور باورچی خانہ میں جا کر کہنے لگا لا ؤ کھانا۔نوکر جب مجبور ہو گیا تو اس نے آنکھ بچا کر دال میں گوشت کا مصالحہ ڈالنے کی کوشش کی۔اس کے ڈالتے وقت ایک بوٹی بھی دال میں گرنے لگی جسے اس نے پھونکوں سے ہٹانے کی کوشش کی۔یہ دیکھ کر وہ ہندو سمجھ گیا کہ یہ تو مجھے گوشت کھلاتا رہا ہے۔کہنے لگا جو آپ آتی ہے اسے کیوں روکتے ہو آنے دو۔تو بعض دفعہ تعریف آپ آتی ہے اُس وقت بہترین طریق یہی ہوتا ہے کہ جو آپ آتی ہے اسے آنے دے۔یہ قدرتی بات ہے کہ جس کام سے کسی کو تعلق ہوتا ہے اسے جب کوئی پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی تعریف کی جاتی ہے۔مگر ہوتا یہ موقع نازک ہے ذراسی غلطی سے انسان اپنے آپ کو سبک بنا سکتا ہے اپنی تعریف کا اقرار کر کے اور