زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 269
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 269 جلد اول جلد سیکھ سکتا ہے جو صرف سننے پر اکتفا کرتا ہے۔کوئی زبان کسی اور طریق سے اس عمدگی کے ساتھ نہیں آسکتی جس عمدگی سے بولنے کے ذریعہ آسکتی ہے۔بچہ بولنے سے ہی زبان سیکھتا ہے اس کے مقابلہ میں عربی زبان کی تعلیم چونکہ بولنے پرمبنی نہیں اس لئے 12,12۔13,13 حتی کہ 320,20 سال لوگ پڑھتے ہیں اور پھر بھی پوری طرح اس کے ذریعہ اپنے خیالات ظاہر نہیں کر سکتے۔ایک حصہ تو حاصل کر لیتے ہیں کہ کوئی دوسرا عربی بولے تو سمجھ لیں لیکن ایک مبلغ قوم کے لئے یہی کافی نہیں کیونکہ اس کا یہ بھی فرض ہے کہ اپنے خیالات دوسروں تک پہنچائے۔پس وہ قوم جس کا کام دوسروں کو تبلیغ کرنا ہے اسے یہ بات کیا فائدہ دے سکتی ہے کہ اس کا کوئی آدمی کسی مجلس میں بیٹھ کر اس مجلس کی باتیں سمجھ سکے۔اس کے لئے تو یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی باتیں دوسروں تک پہنچا سکے۔میں سمجھتا ہوں گفتگو کے ذریعہ کسی زبان کو سیکھنے کی کوشش کرنا بہترین طریق ہے۔اور اگر ہمارے نوجوانوں نے استقلال سے اس بات کو جاری رکھا تو امید ہے کہ صحیح زبان سیکھ سکیں گے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کوئی زبان بول لینے اور صحیح بولنے میں فرق ہے۔میں نے انگلستان میں کئی انگریزوں کو دیکھا ہے جو غلط انگریزی بولتے ہیں۔اسی طرح اردو کئی ایسے لوگ غلط بولتے ہیں جن کی مادری زبان اردو ہے۔مگر ان کے مقابلہ میں کئی پنجابی ایسے ہیں جو صحیح اردو بولتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ انہوں نے صرف اردو بولنے کی مشق نہیں کی بلکہ کوشش کی کہ صحیح زبان بولیں۔اسی طرح ہمارے نوجوانوں کو بھی چاہئے کہ جب وہ انگریزی بولنے کی مشق کریں تو ان میں کوئی نہ کوئی انگریزی کا ماہر ہو جو ان کی غلطیوں کی اصلاح کرے اور صحیح زبان سکھائے۔پس انہیں مشق ہی نہیں کرنی چاہئے بلکہ اپنے لیکچروں کے وقت ایسے آدمیوں کو پریزیڈنٹ چننا چاہئے جو صیح زبان بول سکیں۔ایڈریس میں کام کی تعریف کی گئی ہے جس کی تعریف کی جائے اس کے لئے مشکل ہوتی ہے کہ کیا کہے۔اگر وہ کہے میں اس کا مستحق نہیں ہوں تو دوصورتیں ہوں گی۔یا تو یہ کہ غلط بیانی کرے گا یا پھر کسر نفسی ہو گی جو تکلف کے طور پر ہوگی اور اسے بھی ایک رنگ