زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 264
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 264 جلد اول لوگوں کی حالت کو مد نظر رکھ کر یہ خیال کر لینا کہ یورپ اور امریکہ جلد مسلمان ہو جائے گا خلاف عقل خواہش ہے۔ہم فی الحال وہاں اس اصل کے ماتحت کام کر رہے ہیں کہ ہم آواز بلند کرتے رہیں تا خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور نصرت کے سامان مہیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے بچہ جب روتا ہے تب ماں دودھ دیتی ہے۔ہمارے امریکہ اور یورپ کے مشن بھی بچہ کی طرح رونا اور چیخنا ہے اور خدا تعالیٰ پر یہ ظاہر کرنا ہے کہ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں اور ہم میں جس قدر طاقت ہے وہ ہم اپنی طرف سے صرف کرنے میں دریغ نہیں کر رہے اب تو ہی مدد فرما، تا یہ کام ہو۔وہ کام خدا کی خاص نصرت اور تائید کے بغیر نہیں ہو سکتا۔اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض رونا اور چلانا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنے ان مبلغین کے کام کی ہتک کرتا ہوں جو ان ممالک میں کام کر رہے یا کر چکے ہیں۔ایک ایسا شخص جو ہر طرف سے نا امید ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور گرتا، اس کے آگے چیختا چلاتا اور اس سے مدد مانگتا ہے کوئی عقل مند نہیں کہہ سکتا کہ لغو کام کرتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ ظاہری اسباب پر نظر رکھنے والے لوگ کہیں گے یہ بے فائدہ کوشش ہے اس سے کیا ہو جائے گا۔لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ یہ لغو کام نہیں۔اگر اس کے بظاہر فور نتائج نہیں نکلتے تو اسے ناکامی نہیں کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ اس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ اگر جلد نہیں تو بدیر نتا ئج نکلیں گے۔پس یورپ یا امریکہ میں جس مبلغ کو بھیجا جاتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے حضور دعا کے ذریعہ اپنی بے بسی اور بے سامانی کا مظاہرہ کرتا ہے تا خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت جوش میں آئے اور خدا خود کامیابی کے سامان پیدا کر دے۔میرے نزدیک یہ بھی ایک کام ہے اور یہ بھی دین کی بہت بڑی خدمت ہے کیونکہ اس کے بغیر کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔دیکھو رسول کریم ﷺ جب مکہ میں تبلیغ کرتے تھے تو کیا ابتدائی سالوں میں ظاہر بین کہہ سکتے تھے کہ کوئی کامیابی ہوگی۔کئی سال تک یہی حالت رہی مگر یہ بنیاد تھی آئندہ کامیابیوں کی اور بعد میں جس قدر کامیابیاں حاصل ہوئیں اسی ابتدائی کام کی کوششوں کا نتیجہ تھیں۔پس ہمارے مشن یورپ اور امریکہ میں جو کچھ کر رہے ہیں