زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 265

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 265 وہ معمولی کام نہیں بشرطیکہ اسے مسلسل جاری رکھا جائے۔جلد اول ابھی چند دن ہوئے میرے پاس عدن سے خط آیا ہے کہ وہاں 34 سال سے عیسائیوں کا مشن قائم ہے جسے اس وقت تک کچھ بھی کامیابی نہیں ہوئی۔عیسائیوں سے پوچھا جائے کہ پھر تم لوگ کیوں کوشش کرتے ہو؟ تو کہتے ہیں ہمارا کام سنانا ہے ہم سنائے جائیں گے۔حالانکہ ان کے پاس حکومت ہے، سامان ہیں، آدمی ہیں مگر باوجود اس کے اتنے لمبے عرصہ میں ایک آدمی کو بھی عیسائی نہیں بنا سکے اور ہمت نہیں چھوڑی۔عیسائی ہر جگہ اسی ہمت اور کوشش سے کام کرتے ہیں۔ہمیں یورپ اور امریکہ میں اپنی بہت ہی محدود اور قلیل کوشش پر جو نو مسلم ملے ہیں انہیں خواہ نام کے مسلمان ہی کہا جائے تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عیسائیوں کو سالہا سال کی کوششوں اور بے شمار مال صرف کرنے کے بعد جیسے آدمی ملے ان سے ہمارے نو مسلم بہت اچھے ہیں۔ہندوستان میں جن لوگوں کو عیسائی بنایا جاتا ہے ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ایک دفعہ والدہ صاحبہ سیر کو جا رہی تھیں۔انہیں ایک دیہاتی عورت ملی جس سے پوچھا گیا تم کون ہو؟ اس نے کہا ہم عیسائی ہوتے ہیں۔والدہ صاحبہ نے پوچھا عیسائی کون ہوتے ہیں؟ کہنے گی ہم اور انگریز بھائی ہوتے ہیں۔قریباً یہی حالت ان سب لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں عیسائی مشنری عیسائی بناتے اور جن پر بے شمار روپیہ صرف کرتے ہیں۔اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ ان کی کامیابی نہیں۔اس سے عیسائیوں کو بہت فائدے پہنچ رہے ہیں اور آئندہ پہنچیں گے اگر عیسائیت کی اس رو کو نہ روکا گیا۔ہندوستان کے 95 فیصدی عیسائی ہونے والے مذہبی لحاظ سے ان سے بہت ادنی درجہ پر ہیں جو یورپ اور امریکہ میں مسلمان ہو رہے ہیں۔لیکن باوجود اس کے عیسائیوں کی کوششیں سرگرمی سے جاری ہیں۔ان حالات میں ہمیں ان کی نسبت بہت زیادہ کامیابی کی امید ہے اور یقین ہے کہ اسلام ضرور ان ممالک میں قائم ہوگا۔مگر اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری جماعت اپنی ہمت کو قائم رکھے اور خاص کر انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ کو کوشش کرنی چاہئے۔عام طور پر یہ لوگ ظاہری حالت کو دیکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں حتی