زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 261

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 261 جلد اول مجھے بتا یا قاضی صاحب کو جوش آگیا ہے۔میں نے کہا دیکھوا بھی میں ان کا جوش ٹھنڈا کر دیتا ہوں۔میں نے قاضی صاحب سے کہا یہ حالات ہیں ایسی صورت میں آپ ہی علاج بتائیے۔یہ سن کر وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے پھر تو مجبوری ہے نا۔اسی طرح ہر ایک کو اتفاق و اتحاد کا خیال رکھنا چاہئے اور کسی بات پر اڑے نہیں رہنا چاہئے۔جماعت میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کی طبیعت نرم ہوتی ہے اور انہیں غصہ نہیں آتا مگر غصہ والے بھی ہوتے ہیں۔ایک زمانہ میں پیر افتخار احمد صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب پاس پاس رہتے تھے۔پیر صاحب کے بچے روتے اور اتنا روتے کہ سارا گھر سر پر اٹھا لیتے۔جب حضرت مسیح موعود 1904 ء میں باغ میں رہنے لگے اور دوسرے لوگ بھی وہیں چلے گئے تو اتفاق سے پیر صاحب اور مولوی صاحب وہاں بھی پاس پاس ہی رہنے لگے۔ایک دن مولوی صاحب نے پیر صاحب کو ہلا کر کہا اب میں بچوں کا اس قدر شور برداشت نہیں کر سکتا۔آپ کو کبھی ان کے رونے پر غصہ بھی آتا ہے یا نہیں؟ اگر میرے بچے اس طرح روئیں تو میں ان کا بھرکس نکال دوں۔پیر صاحب سب باتیں خموشی سے سنتے رہے آخر میں ہنس کر کہا مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ آپ کو غصہ آتا کیوں ہے۔یہ کون سی غصہ کی بات ہے۔مولوی عبد الکریم صاح حضرت خلیفہ اول کو آ کر سنانے لگے اب بتائیے کیا علاج کروں انہوں نے تو ہنس کر کہہ دیا کہ یہ غصہ کی بات ہی نہیں۔پس دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں غصہ والے بھی اور نرمی والے بھی۔مگر غصہ کو روکنا ارادہ سے تعلق رکھتا ہے۔اگر یہ عادت ہو کہ ضرورت کے وقت غصہ آئے اور پھر دبا سکیں تو سب کام عمدگی سے ہو سکتے ہیں۔اور یہی وہ روح ہے جس سے کام چلا کرتے ہیں۔یہ روح قاضی صاحب میں نمایاں رہی اور اس سے میں نے انتظامی مدوں میں فائدے اٹھائے ہیں اور کسی کام میں خلل نہیں ہوا۔خواہ اُس زمانہ میں جبکہ میں طالب علم تھا، خواہ اُس وقت جب برابری کا زمانہ تھا اور خواہ اُس وقت جب خدا نے خلیفہ بنایا۔مجھے قاضی صاحب کے متعلق کبھی خیال نہیں آیا کہ کوئی بات ایسی ہو جو کینہ کے طور پر ان کے دل