زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 260
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 260 جلد اول تعلیم دینا خواہ کتنا ہی اعلیٰ کام ہو مگر اپنے اندر نقائص رکھتا ہے اس لئے اس سے فارغ ہونا ضروری تھا۔اول تو اس لئے کہ اب قاضی صاحب کے قومی مضبوط نہیں رہے۔دوسرے اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان کے تعلقات بڑی عمر کے لوگوں سے ہوں۔اور وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ 1 بھی پورا ہو۔میرے نزدیک ہر استاد جسے خدا تعالی لمبی عمر دے اسے ایک وقت میں پڑھائی کے کام سے علیحدہ ہو جانا چاہئے خواہ ابھی تک اس کے قومی اچھے ہی ہوں۔ایک شخص جس نے ساری عمر پڑھانے میں صرف کر دی ہو وہ اس کام سے علیحدہ ہونے پر گھر میں بے کار نہیں بیٹھ سکتا ضرور وہ کچھ نہ کچھ کام کرے گا۔فرق صرف یہ ہوگا کہ اس کا میدان عمل بدل جائے گا۔پس لڑکوں نے قاضی صاحب کی جدائی پر جو افسوس کیا ہے وہ بجا ہے مگر میں سمجھتا ہوں اب ان کی عمر اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان کا تعلق بچوں کی بجائے بڑوں سے ہونا چاہئے کیونکہ اب انہیں اس آرام کی ضرورت ہے جس میں چلنے پھرنے کی تکلیف نہ ہو۔لڑکوں کو جو غم ہے وہ طبعی ہے جو جدائی سے ہوتا ہے مگر طالب علموں کو قاضی صاحب کی زندگی سے یہ نتیجہ نکالنا چاہئے کہ اپنا فرض ادا کرنے کے لئے کس طرح توجہ اور کوشش کرنی چاہئے۔قاضی صاحب ہمیشہ وقت مقررہ پر مدرسہ میں آتے اور کورس ختم کراتے رہے ہیں۔قاضی صاحب میں ایک چیز ان کا طبعی جوش ہے مگر میں نے دیکھا ہے جب بھی ان سے اس طریق سے بات کی گئی کہ اگر اس طرح نہیں تو آپ ہی بتائیں کس طرح کیا جائے تو ان کا جوش فوراً بیٹھ گیا۔عام لوگ جن میں غصہ ہوتا ہے وہ اس طرح غصہ نہیں چھوڑ دیتے مگر ہر ایک شخص کو اس بات کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ جب اسے اپنی غلطی معلوم ہو یا ایسے واقعات اور حالات معلوم ہوں جو اسے پہلے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے غصہ آ گیا ہو تو فور أغصہ اور جوش ترک کر دے۔یہ بات میں نے قاضی صاحب میں دیکھی ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک مشورہ ہو رہا تھا۔قاضی صاحب کو ایک بات میں اختلاف تھا۔کسی نے