زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 259
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 259 جلد اول دروازہ کے سامنے قاضی صاحب چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتے اور مجھے پڑھاتے ہوئے مدرسہ آنے کے لئے ناشتہ بھی کرتے جاتے تھے۔اس زمانہ سے مجھے قاضی صاحب سے واقفیت ہے اور میں سمجھتا ہوں قاضی صاحب کی یہ بات قابل نقل اور نمونہ ہے کہ طلباء کو مقررہ کورس ضرور ختم کروایا کرتے تھے۔چند ہی استاد اس بات کا خیال رکھتے ہیں۔بعض میں یہ عیب ہوتا ہے کہ سارا زور پہلے صفحات پر دے دیتے ہیں اور باقی حصہ ختم نہیں ہو سکتا۔دوسرے سال پھر اسی طرح ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکے پاس بھی ہو جاتے ہیں تو بھی ایک حصہ میں کمزور رہتے ہیں کیونکہ وہ انہوں نے پڑھا نہیں ہوتا۔انہیں محیط واقفیت نہیں ہوتی حالانکہ سکول میں جس بات کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ طالب علم کتاب سامنے رکھ کر اس کا مطلب سمجھا سکے۔اتنی قابلیت پیدا کر دینا استاد کا کام ہوتا ہے۔اور یہ معمولی بات نہیں بلکہ لمبے تجربہ کے بعد حاصل ہوتی ہے۔آجکل میں مستورات کو پڑھاتا ہوں۔کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جو بات کئی بار بتائی گئی جب اس کے متعلق پوچھا تو معلوم ہوا کچھ نہیں سمجھا۔حالانکہ خواتین میں زیادہ ایسی ہیں جو پہلے پڑھی ہوئی ہیں۔میں نے دیکھا ہے وقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ضمائر کا ترجمہ ضمائر میں ہی کیا جاتا ہے اس سے طالب علم کو یہ پتہ نہیں لگتا کہ مرجع کون ہے۔اب میں نے اس طرح کرنا شروع کیا ہے کہ ترجمہ میں ضمیر نہیں بولنی اور فقرہ ادھورا نہیں چھوڑنا۔جس کی طرف ضمیر پھرتی ہو اس کا نام لینا اور فقرہ پورا کرنا چاہئے۔پس اگر طالب علم کتاب کا ترجمہ جان لے اور اسے لغت آ جائے تو وہ سارا علم جان سکتا ہے۔میرے نزدیک سکول کا بہترین کام یہ ہے اور استاد کا کام یہ ہے کہ سارا کورس پڑھا دے اور شاگرد ساری کتاب کا مطلب سمجھ سکے۔اس بارے میں قاضی صاحب کا جو طرز عمل تھا وہ دوسرے استادوں کے لئے قابل تقلید ہے۔اس وقت طالب علموں نے قاضی صاحب کے ریٹائر ہونے پر جس افسوس کا اظہار کیا ہے وہ سچا ہے مگر میں سمجھتا ہوں قاضی صاحب پر ان کے نفس کا حق بھی ہے۔بچوں کو