زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 248
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 248 جلد اول اس طریق کو اختیار کر کے مجادلہ کا رنگ پیدا کر لیا جائے۔پھر ایسے لوگوں کے ساتھ جن کو اپنے علم کا ناز ہوتا ہے عام مجمعوں میں گفتگو کرنے سے یہ نقصان بھی ہوتا ہے کہ وہ ضد پر آ جاتے ہیں۔اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر وہ خودضد پر نہیں آتے تو اردگرد کے تماشائی ان کے ضد پر آجانے کی وجہ بن جاتے ہیں۔وہ جب دوسروں کی واہ واہ سنتے ہیں تو پھر اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اتنے آدمی میرے ساتھ ہیں۔پس بعض طبیعتیں اس سے متاثر ہو جاتی ہیں اور پھر وہ اپنی طبیعت سے نہیں دوسروں کے اثر سے اڑ جاتے ہیں اور ضد پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ادھر انہیں علم کا گھمنڈ بھی ہوتا ہے اور اُدھر لوگوں کی واہ واہ بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ان دونوں کے ملنے سے وہ اپنے آپ کو کچھ مجھنے لگتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ضد پیدا ہو جاتی ہے۔اور پھر یہ ضد ضد ہی نہیں رہتی بلکہ مجادلہ ومحاربہ تک پہنچ جاتی ہے پس اس سے حتی الوسع بچنا چاہئے۔ایسا ہی جو علماء کہلاتے ہیں ان سے بھی علیحدگی میں گفتگو کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور انہیں عام مجمعوں میں گفتگو کرنے کے نقصانات سے آگاہ کرنا چاہئے۔یہ ایک عام بات ہے کہ جب تبلیغ شروع کی جائے تو لوگ مخالف ہو جاتے ہیں اور جو ان میں شریر ہوتے ہیں وہ شرارت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں اس لئے تبلیغ کے کام کو آہستہ آہستہ کرنا چاہئے کہ تا ان شریروں کو شرارت اور مقابلہ کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔سنت اللہ بھی اسی طرح جاری ہے کہ ہمیشہ تبلیغ کا کام ابتدا میں نہایت آہستگی کے ساتھ شروع کیا گیا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بھی شروع شروع میں اسی طریق پر تبلیغ کی۔اس طرح شریروں کو شرارت کرنے کا موقع کم ملتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے اسی طریق پر کام شروع کرنے کا یہ نتیجہ نکلا کہ صلحاء کی جماعت پہلے پیدا ہوگئی اور شریروں کا گروہ بعد میں بنا۔ان جزائر کے طالب علم غیر مبائعین کے ہاں بھی آئے ہوئے ہیں اور ان کا مبلغ بھی وہاں ہے اور بہ نسبت غیر احمدیوں کے مقابلہ کے ان کے ساتھ مقابلہ ذرا سخت ہے۔یہ