زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 247

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 247 جلد اول تبلیغ کے متعلق نصائح مکرم مولوی رحمت علی صاحب ( مولوی فاضل ) مبلغ سماٹرا و جاوا کو رخصت فرماتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بعد از نماز صبح پنجابی زبان میں چند نصائح فرمائیں جن کا مفہوم اردو میں حسب ذیل ہے۔تشہد، تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اپنے کام کو محنت اور سرگرمی سے کرنا اور مباحثہ کا طریق اختیار نہ کرنا کیونکہ اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے اور اکثر اوقات اس سے اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔پھر مباحثات سے لوگ مانا بھی نہیں کرتے۔بے شک قرآن شریف میں چند باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جن سے مباحثہ کا رنگ نظر آتا ہے مگر ان پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی مباحثہ ایسا نہیں ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہو کہ لوگ مان گئے ہوں۔مثلاً فرعون کا قصہ ہے۔اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ مباحثہ تھا مگر اس میں مباحثہ کا کوئی نمایاں رنگ نہیں۔یہ تو صرف نشانوں کا مقابلہ تھا تاہم اس کا بھی کچھ اثر نہ ہوا اور فرعون نے نہ مانا بلکہ الٹا ضد پر قائم ہو گیا۔پس جہاں تک ہو سکے مباحثات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بعض لوگوں کو علم کا گھمنڈ ہوتا ہے ایسے لوگوں کے ساتھ الگ گفتگو کرنی چاہئے۔وہ اگر بر سر عام مباحثہ کے لئے کہیں بھی تو انہیں کہہ دو کہ اس طریق سے مجادلہ پیدا ہوتا ہے۔اور انہیں اچھی طرح سمجھا دو کہ چونکہ بعض دفعہ مد مقابل کی گفتگو کے نقائص بیان کرنے ہوتے ہیں، بعض دفعہ اس پر جرح کرنی پڑتی ہے، بعض دفعہ گفتگو الزامی جوابوں کا طریق اختیار کر لیتی ہے، بعض دفعہ عقائد پر تنقید شروع ہو جاتی ہے اور ان باتوں سے تحقیق حق جو که اصل مطلب ہوتا ہے انسان اس سے دور ہو جاتا ہے اس لئے میں یہ نہیں پسند کرتا کہ